فیلڈ مارشل صدر ہو سکتے ہیں؟ تردید ہو گئی!

لکھنے کے لئے موضوعات کی کمی تو کیا بہتات ہے، کس پر لکھیں اور کس کو چھوڑیں مسئلہ بنا ہوا تھا۔ گذشتہ روز برادرم مصطفےٰ کمال پاشا نے دِل کے تار چھیڑ دیئے اور سوال پوچھا تھا کہ موچی دروازہ والی جلسہ گاہ کو کیا کہتے تھے اُن کا خیال تھا کہ شاید اس تاریخی جلسہ گاہ کا بھی کوئی مخصوص نام رکھا گیا ہو گا،ان کے سوال میں ایک افسوسناک تاریخی چھپی ہوئی ہے جو ہمارے قومی کردار کا بھی ایک دُکھی باب ہے۔خیال تھا کہ اس حوالے سے پھر یاد دہانی کی کوشش کروں گا تاہم آج صبح خبروں نے خیال بدل دیا اور جس موضوع کو بوجوہ چھوڑ دیا ہوا تھا اس پر ہی لکھنے کا خیال آ گیا کہ یہ ایک تکنیکی مسئلہ بھی ہے۔ خبروں میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا اکنامسٹ کو دیا گیا انٹرویو لیڈ سٹوری کے طور پر چلا،یہ ایک کھلا ڈھلا اور معقول جوابات پر مبنی انٹرویو ہے، جس میں جنرل احمد شریف چودھری نے اپنے مخصوص انداز میں صاف صاف باتیں کیں،ان کا سادہ انداز سچائی کا مظہر ہے اور بھارت کے ارادوں کے حوالے سے جو بات انہوں نے کہی وہ بھی نیتاؤں کے غور کرنے کی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ بھارت کو کسی بھی قسم کی جسارت سے قبل آپریشن بنیان المرصوص پر غور کر کے یہ سوچ لینا چاہئے کہ نقصان اسے بھی ہو گا اور اِس بار بھارت کا مشرقی حصہ پاک فوج کے جوانوں کا ہدف ہو گا۔

یہ اپنی جگہ،مجھے تو آج جس موضوع پر لکھنا ہے وہ ایسا ہے جس کے حوالے سے ایک عرصہ تک بے پرکی اڑائی گئیں اور کسی تحقیق کے بغیر میجر(ر) عادل(جو اب عدالت سے جرمانہ کے سزاوار ہیں) کی درفنطنی پر بڑے بڑے دعوے کئے گئے،حتیٰ کہ ایک محترم نے تو27ویں ترمیم کا مسودہ دیکھنے کا بھی دعویٰ کر دیا اور یہ آج کل کے دور میں معتبر بھی مانے جاتے ہیں۔جنرل احمد شریف نے ایک سوال کے جواب میں سختی سے اس امر کی تردید کی فیلڈ مارشل عاصم منیر ملک کے صدر بننے جا رہے ہیں،انہوں نے اِس حوالے سے تمام خبروں،تجزیوں اور باتوں کی تردید کر دی کہ معرکہ حق کے بعد یہ سلسلہ چلا جو بالکل ہی غلط ہے اس لئے اسے رد کیا جاتا ہے۔

جن دِنوں یہ خبر چلی اور بحث ہوئی،اس سے کئی کہانیوں نے جنم لیا اور پیپلزپارٹی کے تحفظات کے ساتھ ساتھ صدر آصف علی زرداری کو گھر بھیجنے کی خواہشات کا بھی برملا اظہار کیا گیا۔میں نے اس وقت بھی اپنی رپورٹنگ حس کی بناء پر یہ محسوس کیا کہ کچھ کچھ اور ہے اور یار اسے لے اڑے ہیں اور اس پر غور ہی نہیں کیا کہ اس راہ میں کیا اور کیسی رکاوٹیں موجود ہیں اور کیا موجودہ ہائبرڈ نظام میں اس کی ضرورت بھی ہے۔یہ درست ہے کہ27ویں ترمیم کے لئے ایک مسودہ تیار کیا گیا اور اب یہ مختلف تحفظات اور وجوہات کی وجہ سے سردخانے میں چلا گیا اور وقتی طور پر اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔میں نے اپنے طورپر کوشش کی کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان چاء کی پیالی والا طوفان کیا تھا تو یاد آیا کہ1977ء میں بھی 15ویں ترمیم کا سامنا ہوا تھا اور شاید یہ بھی کوئی ویسی کوشش ہو،اندر کی جاننے والے بعض دوستوں سے پوچھا تو انہوں نے27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی تو تائید کی،لیکن مندرجات کے حوالے سے کم معلومات کا ذکر کیا،ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے حالیہ دور میں بعض انتظامی مسائل کے حوالے سے عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں بعض اختیارات میں ردوبدل کا سوچا تھا اور اس کے لئے 27ویں آئینی ترمیم کی ضرورت محسوس کی گئی تھی اور ایک مسودہ تیار ہوا،بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس مجوزہ ترمیم کے ذریعے نائب صدر کا عہدہ تخلیق کئے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا کہ اس وقت آئینی طور پر سینٹ کے چیئرمین صدر کی غیر حاضری میں قائم مقام صدر ہوتے ہیں اور کئی بار سینٹ کے امور میں مشکلات آتی رہیں اِس لئے نائب صدر کا ہونا ضروری ہے کہ کسی بھی ادارے کے کام میں خلل نہ پڑے تاہم پیپلز پارٹی کو اس مسودے کی اکثر شقوں پر تحفظات تھے۔ اسی بناء پر افواہوں نے زور پکڑا اور صدر زرداری کی چھٹی کا شور برپا ہو گیا، جس کے بعد وزیراعظم کو خود صدر سے ملاقات کر کے ان امور پر بات کرنا پڑی،اب ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت اور تردید سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی صدر زرداری سے بات کی گئی ہو گی اور اِسی بناء پر تیز چلتی افواہیں بالآخر دم توڑ گئیں۔

اب ضرورت اِس امر کی بھی ہے کہ خواہشات پر مبنی ایسی ”درفنطنی“ کس حد تک ممکن ہے اور اگر فیلڈ مارشل ہی کو صدر بنانا یا بننا مقصود ہے تو پھر موجودہ آئینی ڈھانچے کی تبدیلی کے لئے کیا کرنا ہو گا اور یہ کس کس کو نامنظور ہو گا، سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اس وقت جو نظام چل رہا ہے جسے خواجہ آصف نے ہائرڈ نظام کا نام دیا،اس سے شکایت کسے ہے۔اگر ایسا ممکن ہے تو پھر حکمران جماعت ہی شکایت کنندہ ہو سکتی ہے لیکن یہاں تو صورتحال مختلف ہے کہ وزیراعظم نے معرکہ حق کی بنیاد پر ازخود چیف آف آرمی سٹاف ہوتے ہوئے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دینے کا فیصلہ کیا، صدر زرداری کو اعتماد میں لیا اور بتا کر فیصلہ کر لیا گیا،جس کے بعد اعزاز دینے کی تقریب بھی مشترکہ طور پر انجام دی گئی یوں سب راضی ہیں کا تاثر بھی پختہ کیا گیا۔

اب اس امر پر بھی غور کر لیا جائے کہ کیا ہم نظام تبدیل کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت آئینی طور پر (پری ایمبل میں ذکر موجود) ملک میں پارلیمانی نظام رائج ہے اسے صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کے لئے کیسے کیسے پاپڑ بیلنا ہوں گے یہ آئینی ماہرین بخوبی جانتے،اب شور27ویں ترمیم کے حوالے سے ہوا تو کیا صرف صدر زرداری کی تبدیلی مقصود ہے تو اس کے لئے اتنے بڑے تردد کی کیا ضرورت ہے، ان سے درخواست کی جائے تو شاید رد نہ ہو، لیکن فیلڈ مارشل کو ان کی جگہ صدر منتخب کرنا اِس لئے ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ وہ فوج کی سربراہی چھوڑ دیں کہ اول تو صدارتی اختیارات ایسے ہیں کہ ایسی شخصیت کو منظور نہیں ہو سکتے اور نہ ہی اختیارت کے بغیر ان کو یہ منظور ہو سکتا ہے۔ اب یہ بھی غور فرما لیں کہ فیلڈ مارشل کو صدر بنانے کا مقصد وزیراعظم کے اختیارات کو کم کرنا یا پھر صدارتی نظام کی صورت میں ان کی فراغت ہے۔اتنا بڑا بکھیڑا مول لینے کی ضرورت کیا ہے جب موجودہ نظام جسے ہائبرڈ کہا گیا بہت اچھی طرح چل رہا ہے اس لئے27ویں ترمیم کا پس منظر میں چلے جانا پیپلزپارٹی کے تحفظات سے تعلق ہے اور اس کی نوعیت سیاسی ہو گی اِس لئے خواہشات کے گھوڑے دوڑانا درست نہیں۔

میں یہ سوچتا ہوں کہ جب1963ء میں اس پیشے کو اختیار کیا تو اُس وقت بھی پابندیوں کا ذکر ہوتا تھا کہ نیشنل پریس ٹرسٹ بنایا جا چکا تھا تاہم اس دور میں بھی ہم رپورٹروں کے لئے اپنی خبر کی مکمل چھان بین اور اس کی تصدیق لازم تھی کہ تب فریق مخالف کا موقف ساتھ ہی شائع کرنا لازم نہیں تھا اسی لئے رپورٹر سے پوچھ گچھ بھی ہوتی تھی۔ یہ اس لئے ضروری تھا کہ موقف لیا جاتا ہے تو یقینی طور پر دوسری طرف سے تردید ہوتی اور یوں خبریت کہاں رہتی البتہ خبر کی اشاعت ذمہ داری سے ہوتی اور شائع ہونے پر ازالہ بھی ہوتا تھا،لیکن اب تو طوفان ہی طوفان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں