نئی دہلی (رائٹرز)امریکی سفارتخانے نے فینٹانل بنانے والے کیمیائی اجزا کی اسمگلنگ میں ملوث بھارتی کاروباری افراد اور کارپوریٹ رہنماؤں کے ویزے منسوخ کر دیے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ فینٹانل کے بنیادی یا اصل کیمیائی مادوں کی اسمگلنگ میں ملوث کچھ بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ فینٹانل امریکا میں اوور ڈوز سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے۔
سفارتخانے نے اپنے بیان میں ان افراد کے نام ظاہر نہیں کیے تاہم ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ وہ بھارتی شہری ہیں۔مزید کہا گیا کہ بھارتی حکام اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے امریکی اداروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔بھارت کی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام پر رائٹرز کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے بعد دوطرفہ تعلقات متاثر ہوئے تھے۔ اس سے قبل ٹرمپ چین، میکسیکو اور کینیڈا سے درآمدات پر بھی اضافی ٹیکس لگا چکے ہیں اور ان ممالک کو فینٹانل کی ترسیل میں سہولت کار قرار دے چکے ہیں۔
اس ہفتے امریکی کانگریس کو دیے گئے ایک بیان میں ٹرمپ نے بھارت کو ان 23 بڑے ممالک میں شامل کیا جو منشیات کی ترسیل یا غیر قانونی پیداوار کے مراکز ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کسی ملک کا اس فہرست میں شامل ہونا لازمی طور پر اس کی حکومت کی انسدادِ منشیات کی کوششوں کی عکاسی نہیں کرتا۔

