قائمہ کمیٹی اجلاس، خواجہ اظہار الحسن اور شہلا رضا میں تلخ جملوں کا تبادلہ

اسلام آباد(نامہ نگار)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن خواجہ اظہار الحسن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شہلا رضا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات اور اسکروٹنی سے متعلق معاملات زیر بحث آئے۔

خواجہ اظہار الحسن نے الزام عائد کیا کہ ایک خاتون رکن اسمبلی ایک نجی کمپنی کی نمائندگی کر رہی ہیں، جس کے اسٹیک ہولڈر وہ افراد ہیں جن پر ہاکی فیڈریشن نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں طے ہوا تھا کہ بعض معاملات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے متعلق ہیں، تاہم افسانہ بنایا گیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا صدر جعلی ہے۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ اگر وزیراعظم نے کسی کی تعیناتی کی ہے تو وہ قانونی ہے، ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر ایک نجی کمپنی کی وکالت کی جا رہی ہے، جبکہ یہ کوئی سیاسی جماعت کا اجلاس نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاکی ایسوسی ایشن نجی کمپنی ایکٹ کے تحت قائم ہوئی، اگر الگ فیڈریشن بنانی ہے تو بنا لیں، لیکن یہ زیادتی ہے۔

اس موقع پر شہلا رضا نے کہا کہ طارق بگٹی کو انتخابات کرانے کا اختیار تھا، مگر انہوں نے خود صدر بننے کو ترجیح دی اور من پسند کلبز رجسٹر کرا دیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہاکی فیڈریشن کے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں، کیونکہ اسپورٹس بورڈ ماضی میں فیڈریشن کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔

پیپلز پارٹی کی رکن نے مزید کہا کہ بِلے کو دودھ کی نگرانی پر بٹھایا جا رہا ہے، منتخب باڈی کے خلاف ایک اور باڈی بنا دی گئی ہے، ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے اور طارق بگٹی لاڈلے بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی انتخابات کو غیرقانونی قرار دیا ہے، مالی بے ضابطگیاں اور بدانتظامی جاری ہیں۔

جواب میں خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ میٹنگ کسی ایک شخص کے لیے نہیں ہو رہی، ایک ہی بات بار بار دہرائی جائے تو وہ لطیفہ لگتی ہے، بولنے کا موقع دیا جائے۔ اس پر شہلا رضا نے کہا کہ لطیفے کو سب کچھ لطیفہ ہی لگتا ہے، ہم قانون کے مطابق چلیں گے، چاہے جتنا بھی کھرچنا اور کریدنا پڑے، ہمیں معلوم ہے کیا قانونی ہے اور کیا غیرقانونی۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی رائے کو کوئی رد نہیں کر سکتا اور انہوں نے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہاکی فیڈریشن کے انتخابات کو نل اینڈ وائڈ قرار دیا۔