پاکستان میں سیاست تاریخی طور پر قانونی قواعد کے حوالے سے ایک تشویشناک حد تک لاپروائی کا شکار رہی ہے۔ قانون کی پابندی کو اکثر فرض کے بجائے سہولت سمجھا جاتا ہے۔ جب سیاسی عناصر طاقتور حلقوں یا بااثر اداروں کے قریب ہوتے ہیں تو طریقۂ کار کی خلاف ورزیاں نظرانداز ہو جاتی ہیں، مہلتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور قانونی نظم و ضبط کی جگہ غیر رسمی رعایتیں لے لیتی ہیں۔ مگر جب معاملات پسِ پردہ سمجھوتوں کے بجائے عدالتوں میں طے پاتے ہیں تو یہی سیاسی عناصر اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے ججوں پر جانبداری کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے اندرونی انتخابات اور انتخابی نشان (“بلّا”) کا مقدمہ اسی رویّے کی ایک واضح مثال ہے۔
اس مقدمے کا اصل محور نظریہ، مقبولیت یا انتخابی انصاف کے عمومی تصورات نہیں تھے، بلکہ ایک محدود مگر بنیادی قانونی سوال تھا: کیا پاکستان تحریکِ انصاف نے انتخابات ایکٹ، 2017 کے تحت اندرونی جمہوریت سے متعلق لازمی تقاضوں کی تعمیل کی؟ قانون کی دفعات 208 اور 209 سیاسی جماعتوں کو پابند کرتی ہیں کہ وہ باقاعدہ، شفاف اور جمہوری اندرونی انتخابات منعقد کریں اور ان کی درست تصدیق الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جمع کرائیں۔ یہ دفعات محض تکنیکی رسمیّتیں نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے آئینی عزم کا قانونی اظہار ہیں۔
ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو متعدد بار یاد دہانیوں، نوٹسز اور مواقع کے ذریعے قانونی تقاضے پورے کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ اس کے باوجود جماعت قانون اور اپنے آئین کے مطابق اندرونی انتخابات کرانے میں ناکام رہی۔ بالآخر الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو اپنے آرڈر میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پی ٹی آئی قانونی شرائط پوری کیے بغیر انتخابی نشان حاصل یا برقرار رکھنے کی اہل نہیں رہی۔ اس پورے عمل میں بنیادی مسئلہ محض “الیکشن کروا لینے” تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ آیا جماعت نے ایسا طریقہ اختیار کیا جس میں ارکان کو واقعی شرکت، اطلاع، مقابلے اور شفافیت کے تقاضے میسر آئے۔
یہ نکتہ بھی مرکزی رہا کہ پی ٹی آئی نے 2 دسمبر 2023 کو اندرونی انتخابات کرانے کا دعویٰ کیا مگر ان انتخابات کے طریقۂ کار، اطلاع اور جماعتی آئین کے تقاضوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھے جو الیکشن کمیشن کے سامنے بھی زیرِ بحث رہے۔ چنانچہ معاملہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ جماعتی جمہوریت کے معیار کا بن گیا۔
جب یہ تنازع سپریم کورٹ پہنچا تو عدالت کے سامنے سوال یہ نہ تھا کہ کسی جماعت کو سیاسی طور پر کتنا نقصان ہوگا، بلکہ یہ تھا کہ آیا الیکشن کمیشن نے قانون کے تحت اپنے اختیار کا درست استعمال کیا ہے۔ 13 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا کہ سیاسی جماعتوں پر اندرونی انتخابات کرانا محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک قانونی ذمہ داری ہے، اور الیکشن کمیشن اس ذمہ داری کی جانچ پڑتال کا اختیار رکھتا ہے۔ بعد ازاں 25 جنوری 2024 کو تفصیلی فیصلہ جاری ہوا جس میں اس اصول کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا۔
اس تناظر میں پی ٹی آئی کی قانونی حکمتِ عملی کا ایک پہلو نمایاں رہا۔ حقائق کی مکمل قانونی تعمیل دکھانے کے بجائے عمومی طور پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ جماعت عدالت سے ایسی رعایت کی توقع رکھتی ہے جو سیاسی نقصان یا انتخابی توازن کی بنیاد پر قانونی تقاضوں کو نرم کر دے۔ یہ توقع اتفاقی نہیں؛ ہماری عدالتی تاریخ میں ایسے ادوار موجود رہے ہیں جہاں عدالتیں بعض اوقات سیاسی حقائق کے دباؤ میں قانونی یکسانیت پر سمجھوتہ کرتی رہی ہیں۔
تاہم اس مقدمے میں عدالت نے اس روایت سے واضح فاصلہ اختیار کیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالت نے دو ٹوک انداز میں قرار دیا کہ انتخابی نشان کوئی بنیادی حق نہیں بلکہ ایک قانونی سہولت ہے، جو قانون کی پابندی سے مشروط ہے۔ سیاسی مقبولیت، عوامی ہمدردی یا ممکنہ انتخابی نقصان واضح قانونی تقاضوں پر فوقیت نہیں رکھتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدلیہ کا کام قانون کو معطل کرنا نہیں بلکہ اس پر عمل کرانا ہے۔
فیصلے کے بعد تنقید کا ایک رخ یہ بنا کہ عدالت نے نام نہاد”نظریۂ ضرورت” کے مطابق سیاسی ضرورت کے تحت رعایت کیوں نہ دی۔ یہ تنقید اصولی طور پر کمزور ہے۔ نظریۂ ضرورت کا تاریخی تعلق، چاہے اسے درست مانا جائے یا غلط، عموماً غیر آئینی اقدامات، خصوصاً فوجی اقتدار کے جواز سے رہا ہے۔ اسے ایک سادہ قانونی تعمیل کے معاملے میں استثنا بنانے کا مطالبہ دراصل سیاسی استثنا پسندی کو فروغ دینا ہے، یعنی جب قانون مشکل یا مہنگا پڑے تو رعایت دی جائے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر جانبداری یا سیاسی محرکات کے الزامات بھی سامنے آئے، مگر فیصلے کی ساخت اور استدلال سے واضح ہوتا ہے کہ عدالت نے نہ کوئی نیا اصول ایجاد کیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن کے اختیارات میں غیر معمولی وسعت دی۔ اس نے محض ایک بنیادی اصول دہرایا کہ قانونی فائدہ حاصل کرنے سے پہلے قانونی شرائط پوری کرنا لازم ہے۔ قانون کا مساوی اطلاق انہی کو ناگوار گزرتا ہے جو خود کو اس سے بالاتر سمجھنے کے عادی ہو چکے ہوں۔
یہ فیصلہ عدالتی فعالیت کے بجائے عدالتی ضبط کی مثال بھی ہے۔ عدالت نے قانون کو سیاسی نتائج کے ساتھ “بیلنس” کرنے یا کسی فریق کے لیے عارضی راستہ نکالنے کے بجائے ادارہ جاتی حدود کا احترام کیا اور الیکشن کمیشن کے آئینی کردار کو تسلیم کیا۔ منقسم سیاسی ماحول میں عدلیہ کی ساکھ اسی ضبط سے قائم رہتی ہے کہ عدالت قانون بولے، سیاست نہ کھیلے۔
اس مقدمے کے اثرات پی ٹی آئی تک محدود نہیں۔ یہ فیصلہ اس سوچ کو چیلنج کرتا ہے کہ انتخابی طاقت، عوامی دباؤ یا وقتی ہمدردی قانونی پابندی کی جگہ لے سکتی ہے۔ جمہوریت کی ساکھ اندر سے بنتی ہے: جو جماعت اپنے اندر شفاف اور آئینی داخلی انتخابات نہیں کروا سکتی، وہ قومی سطح پر جمہوری اقدار کی معتبر علمبردار ہونے کا دعویٰ کمزور کر دیتی ہے۔ داخلی احتساب کوئی آپشن نہیں بلکہ جمہوریت کی بنیادی شرط ہے۔
مزید یہ کہ فیصلے کے بعد سیاسی ردِعمل، خصوصاً ججوں پر ذاتی حملے اور ہر ناپسندیدہ عدالتی نتیجے کو سازش قرار دینا، اسی مسئلے کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ آئینی جمہوریت میں عدالتی فیصلوں پر تنقید جائز اور صحت مند ہے، مگر قانون سے انحراف کے احتساب پر ججوں کی کردار کشی ادارہ جاتی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے۔ عدالتی آزادی اس سیاسی ثقافت میں محفوظ نہیں رہ سکتی جو ہر فیصلے کو “ہم بمقابلہ وہ” کی جنگ بنا دے۔
آخر میں، تحریکِ انصاف کے اندرونی انتخابات اور انتخابی نشان کا مقدمہ کسی جماعت کے خلاف سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک خالص قانونی فیصلہ تھا، قانون، ادارہ جاتی اختیار اور آئینی اصول کے دائرے میں۔ عدالت نے تحریکِ انصاف کو انصاف سے محروم نہیں کیا؛ اس نے صرف رعایت دینے سے انکار کیا۔
قانون کی حکمرانی کسی عدالت کی عطا کردہ رعایت نہیں، یہ ہر سیاسی جماعت پر بلااستثنا عائد ایک آئینی ذمہ داری ہے۔

