اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پاکستان نے قطر پر اسرائیلی حملوں کو برادر اسلامی ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے اور اُمتِ مسلمہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان قطر پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے قطر کا خصوصی دورہ کر کے برادر ملک کو پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت اور یکجہتی کا پیغام دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملے نہ صرف قطر کی سلامتی بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ترجمان نے اس موقع پر اُمتِ مسلمہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہو۔
دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان، الجزائر اور صومالیہ کی درخواست پر اقوام متحدہ نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ اس معاملے پر عالمی سطح پر مشترکہ ردعمل دیا جا سکے۔ترجمان نے وزیر اعظم کے قطر کی عرب-اسلامی سمٹ میں شامل ہونے کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ قطر کا کردار غزہ میں امن قائم کرنے کیلئےنہایت اہمیت رکھتا ہے۔
بریفنگ میں ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے 10 ستمبر کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی فورم کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارتی بربریت کے خلاف ثابت قدم ہیں اور بھارت کی جانب سے حریت رہنماؤں پر کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے ترک وزیر دفاع کے حالیہ دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی صنعت میں تعاون بڑھ رہا ہے۔ سیلابی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارت نے سیلاب سے متعلق محدود معلومات فراہم کی ہیں اور سندھ طاس معاہدے کے تحت طے شدہ چینلز استعمال نہیں کیے گئے۔
انہوں نے صدر مملکت کے دورہ چین کو پہلے سے طے شدہ قرار دیا اور کہا کہ امریکا کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں ہونے والے معاہدے شفاف ہیں اور دنیا بھر سے سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا جائے گا۔دفتر خارجہ نے ایک بار پھر زور دیا کہ قطر پر حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور عالمی برادری کو اسرائیل کو اس اقدام پر جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

