قومی اسمبلی کےبعدسینیٹ میں پیٹرولیم ایکٹ میں ترمیمی بل منظورکرلیاگیا

اسلام آباد (نامہ نگار) ایوانِ بالا سینیٹ نے پیٹرولیم ایکٹ میں ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، یہ بل پہلے قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا۔

ترمیمی بل کے مطابق حکومت آئی ٹی اور ریئل ٹائم ٹیکنالوجی کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی ڈیجیٹل ٹریکنگ اور ذخائر کی نگرانی کرے گی، جبکہ پیٹرول اسٹیشنز اور ذخیرہ گاہوں تک مصنوعات کی ترسیل بھی ریئل ٹائم ٹریکنگ کے ذریعے مانیٹر کی جائے گی۔

“بھاری جرمانے اور سخت سزائیں”
بل میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر پیٹرول کی درآمد، ٹرانسپورٹ، ذخیرہ، ریفائن یا بلینڈنگ پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا، جبکہ جرم دہرانے پر 50 لاکھ روپے جرمانہ دینا ہوگا۔

اسی طرح لائسنس کے بغیر پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ یا فروخت کرنے والوں کے خلاف ڈپٹی کمشنر کارروائی کرے گا اور مشینری، مواد، اسٹوریج ٹینک اور مصنوعات ضبط کر کے مالک پر ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

“لائسنس اور تجدید کی شقیں”
بل کے مطابق اگر کسی شخص کا لائسنس منسوخ یا زائد المیعاد ہو جائے تو چھ ماہ کا گریس پیریڈ دیا جائے گا۔ محکمۂ ایکسپلوسیو ایک ماہ میں لائسنس کی تجدید کرے گا، بصورتِ دیگر متعلقہ افسر تاخیر کی وجوہات بیان کرنے کا پابند ہوگا۔ لائسنس کی تجدید نہ ہونے کی صورت میں اپیل سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن کے پاس کی جا سکے گی۔

“اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی”
بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی لائسنس یافتہ شخص اسمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ یا فروخت کرتا ہے تو اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا، اس کی مشینری، سامان اور اسٹوریج ٹینک ضبط کر لیے جائیں گے اور ساتھ ہی 10 کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد ہوگا۔

مزید برآں، پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی ٹرانسپورٹ بھی ضبط کر لی جائے گی، تاہم متاثرہ شخص عدالت سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہوگا۔

“اغراض و مقاصد”
ترمیمی بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کیلئے ریئل ٹائم آئی ٹی ٹریکنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ غیر قانونی پیٹرول پمپس، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو ضبطگی کے خصوصی اختیارات دیے جا رہے ہیں تاکہ ملک میں توانائی کے شعبے میں شفافیت اور قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں