اسلام آباد(نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی (NSC) کے ہنگامی اجلاس میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور انہیں عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور، اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اجلاس میں ایران کے اپنے دفاع کے حق کی باضابطہ توثیق کی گئی۔
اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت تمام اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔ اس موقع پر خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے حالیہ ملاقات پر بریفنگ
وزیراعظم آفس کے ذرائع کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اجلاس کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات سے آگاہ کیا۔ یہ ملاقات چار روز قبل ہوئی تھی اور اس کے بعد حکومتِ پاکستان نے ٹرمپ کو 2026 کے نوبل امن انعام کیلئےباضابطہ طور پر نامزد کرنے کا فیصلہ کیا جس پر بعض عالمی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی حملوں کی مذمت، مذاکرات کو نقصان
قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ’’اسرائیل اور امریکا کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نہ صرف خطے میں امن و سلامتی کیلئےخطرہ ہیں بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تعمیری مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔‘‘
کمیٹی نے ان حملوں کو خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے والا قدم قرار دیا جس کے نتیجے میں ایک بڑے تنازع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ایران کے دفاع کا حق
کمیٹی نے واضح الفاظ میں کہا کہ’’پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کے اپنی خودمختاری، سرزمین اور عوام کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے۔‘‘
ایرانی عوام سے اظہارِ تعزیت، زخمیوں کیلئےدعا
قومی سلامتی کمیٹی نے حملوں میں ہونے والے بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع پر ایرانی عوام اور حکومت سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
پاکستان کا اصولی مؤقف، متعلقہ فریقین سے رابطہ
کمیٹی نے ایران کے شہروں فردو، نطنز، اور اصفہان میں 22 جون کو ہونے والے حملوں کے بعد ممکنہ مزید کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملےبین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی قراردادوں،بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کے منشورکی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان تمام متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کیلئےاپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
سفارتی حل پر زور
این ایس سی نے زور دیا کہ’’تنازعات کے حل کیلئےاقوام متحدہ کے منشور، سفارت کاری اور بامعنی مکالمے کو اختیار کیا جائے۔ تمام فریقین بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسان دوست قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔‘‘
ٹرمپ کے بیانات اور ایران کا مؤقف
رپورٹس کے مطابق، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف شدت آمیز بیانات دیے ہیں، جن میں انہوں نے کہا ہے کہ’’ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘
ایران نے یہ دعویٰ مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یورینیم افزودگی پروگرام صرف سول مقاصد کیلئےہے۔
ایران کی جوابی کارروائی
ایرانی حکام نے بتایا کہ وہ اپنی سرزمین، سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے۔ ایران کی جانب سے جوابی حملوں میں اسرائیل کے شہر تل ابیب کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جن میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

