میڈرڈ (غیر ملکی میڈیا) اسپین کے 37 سالہ سوشل میڈیا اسٹریمر اور انفلوئنسر سرجیو جیمنیز لائیو اسٹریمنگ کے دوران ہلاک ہوگئے، وہ ناظرین سے رقم لے کر کیمرے کے سامنے شراب اور منشیات استعمال کر رہے تھے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرجیو جیمنیز ایک انتہائی خطرناک آن لائن چیلنج میں حصہ لے رہے تھے، جس کے تحت انہوں نے ناظرین کی ادائیگی کے بدلے چھ گرام کوکین اور وسکی کی ایک مکمل بوتل استعمال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ لائیو اسٹریمنگ یکم جنوری کی رات جاری تھی تاہم وہ ایمبولینس بلانے سے قبل ہی دم توڑ گئے۔
رپورٹس کے مطابق سرجیو کی والدہ ٹریسا نے انہیں کمرے کے اندر فرش پر گھٹنوں کے بل گرا ہوا پایا، کمرے میں تقریباً خالی وسکی کی بوتل، انرجی ڈرنکس اور ایک سرخ پلیٹ پر کوکین موجود تھی۔
ٹریسا کے مطابق رات تقریباً دو بجے باتھ روم جانے کے لیے اٹھی تو دیکھا کہ بیٹے کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا ہے، آواز دینے پر کوئی جواب نہ آیا، اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو فرش پر بکھری اشیا کے باعث داخل نہ ہو سکی۔ بعد ازاں دیکھا کہ وہ بستر کے پاس گھٹنوں کے بل جھکا ہوا تھا۔
واقعے کے بعد حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اسپین میں لائیو آن لائن چیلنج کے دوران یہ ممکنہ طور پر پہلی ہلاکت ہے۔واضح رہے کہ سرجیو جیمنیز کو شہرت اس وقت ملی تھی جب وہ اسٹریمر سائمن پیریز کی ویڈیوز میں نظر آئے، جو لائیو اسٹریمنگ کے دوران منشیات کے استعمال کے لیے جانے جاتے ہیں۔

