لاہور: دو غیرملکی خواتین کا مبینہ اغوا اور ریپ کیس، چاروں ملزمان کا جسمانی ریمانڈ

لاہور(نمائندہ خصوصی+وقائع نگار خصوصی)لاہور میں دو غیر ملکی خواتین لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو غیرملکی خواتین سٹیفنی ایڈریانا اور آسٹرڈ روبنسن برا سے مبینہ اغوا اور ریپ کے کیس میں جمعہ کو مقامی عدالت نے گرفتار چاروں ملزمان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس پر دو غیر ملکی خواتین، سٹیفن اور ان کی دوست کو پولیس نے گذشتہ روز جمعرات کو بازیاب کرایا تھا۔کارروائی کے دوران گرفتار ملزمان رضا ڈار، سکندر خان، حسن رضا اور ساجد علی کو مقامی عدالت میں آج جمعہ کے روز پیش کیا گیا۔

پولیس نے مزید تفتیش کیلئے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ پولیس نے ملزمان کو پیش کیا تو وہ میڈیا کے کیمروں سے اپنے چہرے چھپاتے رہے۔

علاوہ ازیں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے میڈیاسے گفتگو میں بتایا کہ ملزمان کے متاثرہ خواتین سے پرانے تعلقات تھے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں یہاں بلا کر ریپ کیا جائے اور اغوا کر کے تاوان مانگا جائے۔

انہوں نے کہا: ’متاثرہ خواتین کا میڈیکل کرا لیا گیا ہے، جس میں ریپ کے شواہد ملے ہیں۔ چاروں ملزمان کا اسلحہ برآمد کرنے کیلئے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔‘

ان سے پوچھا گیا کہ کیا ملزم رضا ڈار نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے عزیز ہیں؟

ڈی آئی جی فیصل کامران نے جواب دیا کہ اگر وہ ان کے رشتہ دار بھی ہیں تو قانون سب کیلئے برابر ہے۔ پولیس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے اور کارروائی بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سنگاپور میں رضا ڈار اور درخواست گزار خواتین کے درمیان ڈیجیٹل کرنسی (کرپٹو) کا مشترکہ کاروبار بھی تھا۔ ان کے درمیان مالی لین دین کا تنازع چل رہا تھا۔ جب یہ خواتین پاکستان آئیں تو ان کے ویزوں کا انتظام بھی ملزمان نے ہی کیا تھا۔ان کے مطابق ایف آئی آر میں درج ہے کہ ملزمان نے ان خواتین کی رہائی کیلئے 15 لاکھ ڈالر تاوان بھی طلب کیا۔