لاہور میں ٹرانس جینڈرز کی نامناسب پارٹی منعقد، ماریہ بی کا دعویٰ

لاہور (نامہ نگار) معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی جانب سے ایک “نامناسب ڈانس پارٹی” منعقد کی گئی، جس میں “فحش پرفارمنس” اور “شیطانی نشانات” کی تشہیر بھی کی گئی۔

انسٹاگرام پر جاری ویڈیو میں ماریہ بی نے کہا کہ انہیں یہ کلپس بعض نوجوانوں اور کم عمر افراد نے بھیجے جو تقریب میں شریک ہوئے تھے، مگر انہیں اس نوعیت کے مواد کا اندازہ نہیں تھا۔

ماریہ بی نے الزام لگایا کہ یہ تقریب ممکنہ طور پر فلم ساز سرمد کھوسٹ کی جگہ پر منعقد ہوئی، جب کہ پاکستان میں جلد ٹرانس جینڈر کہانی پر مبنی فلم جوائے لینڈ بھی نمائش کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔فیشن ڈیزائنر نے پنجاب حکومت، پولیس اور وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ وہ اس سلسلے میں کیا اقدامات کر رہی ہیں۔

ان کے اس دعوے پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں کئی صارفین نے حکومت سے پارٹی منعقد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں