لاہور یونیورسٹی کی خودکشی کی کوشش کرنیوالی طالبہ ہوش میں آ گئی، حالت مستحکم قرار

لاہور(وقائع نگار خصوصی+ایجنسیاں)لاہور یونیورسٹی کی طالبہ فاطمہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، طالبہ ہوش میں آ گئی ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت اب مستحکم ہے، تاہم اسے احتیاطی طور پر آئی سی یو میں رکھا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبہ نے لاہور یونیورسٹی کی عمارت کی بالائی منزل سے چھلانگ لگائی تھی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی۔ زخمی طالبہ کو فوری طور پر لاہور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ وینٹی لیٹر پر تھی، تاہم اب اسے وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے اور وہ خود سانس لے رہی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن سے متعلق فیصلہ طبی جائزے کے بعد کیا جائیگا۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم کے مطابق طالبہ ہوش میں آنے کے بعد اپنے والدین اور طبی عملے سے بات کر چکی ہے جبکہ اہلِ خانہ کے مطابق اس سے قبل کسی خودکشی کی کوشش یا شدید ذہنی دباؤ کا کوئی واضح واقعہ سامنے نہیں آیا تھا۔ طالبہ کی ذہنی کیفیت جانچنے کیلئے ماہرِ نفسیات کی ٹیم بھی انٹرویوز کر رہی ہے۔

پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے جنرل اسپتال کا دورہ کیا اور طالبہ و اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ علاج، نفسیاتی معاونت اور بحالی کے تمام مراحل میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے سے قبل اور بعد کے تمام پہلوؤں کی قانون کے مطابق مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور طالبہ اور خاندان کی عزت و رازداری کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائیگا۔

پولیس کے مطابق طالبہ فاطمہ احمد بلال نامی شخص سے شادی کی خواہشمند تھی تاہم اہلِ خانہ نے اس رشتے سے انکار کرتے ہوئے اسے تعلیم مکمل کرنے کا مشورہ دیا تھا جس پر وہ جذباتی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے سے قبل فاطمہ نے احمد بلال کو 27 منٹ طویل فون کال کی جو اس کی آخری کال تھی، جس کے بعد اس نے اس کا نمبر موبائل فون سے ڈیلیٹ کر دیا۔

تحقیقات کے مطابق فاطمہ واقعے کے روز صبح 7 بج کر 58 منٹ پر لاہوریونیورسٹی پہنچی اس نے اپنی طے شدہ کلاس اٹینڈ نہیں کی اور تقریباً 8 بج کر 30 منٹ پر عمارت سے چھلانگ لگا دی۔ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں شیخوپورہ کے علاقے نارنگ منڈی کے رہائشی احمد بلال کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ طالبہ کے آخری فون کال ریکارڈز اور دیگر شواہد کا فرانزک جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ لاہوریونیورسٹی انتظامیہ کے کردار، گھریلو حالات اور دیگر ممکنہ عوامل کی بھی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے، جبکہ طالبہ کی جان بچانا اور مکمل بحالی اولین ترجیح ہے۔