لاہورجمخانہ ،اجتماعی دانش کا متقاضی

لاہور جمخانہ کے جہان نے ، ہفتہ کے روز ہونے والے سالانہ انتخابات میں کلب کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جیتنے والے پریشان ، ہارنے والے حیران اور ممبرز انگشت بدنداں ہیں، دونوں بڑے پینل بارہ میں سے چھ، چھ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں یعنی نتیجہ ففٹی ففٹی ، چیئرمین کا عہدہ ٹائی یا باریاں ہوں گی چھ، چھ ماہ کی،پہلی باری کس کی ،شائد ٹاس ہو گا ، کمیٹی آف مینجمنٹ کے لئے چھ سابق چئیرمین کامیاب ہو گئے ہیں ،جن میں سلمان صدیق، میاں مصباح الرحمان ، کامران لاشاری،تسنیم نورانی ،ضیا الرحمان اور ڈاکٹر جواد ساجد شامل ہیں اسی طرح چھ ہی ٹاپ ریٹائرڈ بیوروکریٹ منتخب ہوئے ہیں،جن میں سلمان صدیق،کامران لاشاری،تسنیم نورانی،ضیا الرحمان، احمد نواز سکھیرا اور سمیرا نزیر ہیں ، اب اصل سوال جو ہر سنجیدہ ممبر کے ذہن میں گونج رہا ہے کہ کمیٹیاں کون چلائے گا یعنی کام کون کرے گا؟ڈاکٹر علی رزاق نے مسلسل چوتھی مرتبہ سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے،اسی طرح دوسرے منتخب ہونے والوں میں واجد عزیز خان،سرمد ندیم اور پرویز بھنڈارہ بھی سدا بہار ہیں۔سابق آئی جی پولیس شوکت جاوید، چند ووٹوں سے الیکشن نہیں جیت سکے حالانکہ انہوں نے کلب کی بہتری کے لئے بڑی محنت کی ہے۔

لاہور جمخانہ ، ایک ایسا ادارہ ہے جس کے گالف کورسز، کارڈ روم، ٹینس،کرکٹ،سنوکر، لائبریری اور ڈائننگ ہالز محض سہولیات نہیں بلکہ اس شہر کی سماجی تاریخ کا حصہ ہیں، یہاں کے انتخابی فیصلے کے اثرات کلب کی آیندہ ممبرشپ پالیسی سے لے کر سالانہ ایک ارب کے مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے تک پھیلتے ہیں۔اب ذرا موجودہ صورت حال کو کھول کر دیکھتے ہیں، بارہ رکنی کمیٹی میں چھ، چھ کی تقسیم، بظاہر یہ جمہوری توازن لگتا ہے،ممبرز نے فیصلہ دیا ہے کہ کسی آزاد امیدوار یا پینل کی ضرورت نہیں ،دو سنجیدہ پینلز ہی کافی ہیں،ممبرز نے ایک حد تک منوپلی کو بریک کیا ہے تو دوسری طرف سنجیدگی کی ضرورت اور کام کرنے والوں کی اہمیت بھی بتائی ہے مگر درحقیقت یہ انتظامی تعطل کا نسخہ بھی ہے، ہر قرارداد، ہر تجویز، ہر فنانشل اپروول چھ کے مقابلے میں چھ، اگر چیئرمین کا ووٹ فیصلہ کن ہو تو بھی سوال یہ ہے کہ چیئرمین خود کس گروپ سے ہوگا؟ اور اگر چیئرمین شپ ہی ٹاس یا چھ ماہ کی باری پر ہو تو کیا ہر چھ ماہ بعد پالیسی کی سمت تبدیل نہیں ہو گی؟ اصل مسئلہ صرف عددی برابری نہیں وہ نفسیاتی کیفیت ہے جو اس کمیٹی کی ساخت میں چھپی ہوئی ہے، منتخب ہونے والوں میں آدھے وہ حضرات ہیں جو پہلے چیئرمین رہ چکے ہیں، سابق چیئرمین ہونا ایک اعزاز ہے، مگر یہ اعزاز بعض اوقات عملی ذمہ داریوں سے گریز کا جواز بھی بن جاتا ہے، جو شخص کل تک پورے کلب کا سربراہ رہا ہو، کیا وہ آج کسی ذیلی کمیٹی میں بیٹھ کر بجٹ کی لائن آئٹمز پر بحث کرے گا؟ کیا وہ کیٹرنگ یا سپورٹس کمیٹی کی میٹنگ میں گھنٹوں گزارنا اپنی شان کے مطابق سمجھے گا؟ یہی وہ نکتہ ہے جو بحران کی جڑ بنے گا ، عہدے کا وقار اور خدمت کی عملی مشقت دو الگ چیزیں ہیں، لاہور جمخانہ کی سیاست میں اکثر لوگ چیئرمین بننے کی خواہش رکھتے ہیں، مگر کمیٹیوں میں بیٹھ کر فائلیں دیکھنے، ٹینڈر پراسیس کی نگرانی کرنے، ممبرز کی شکایات سننے اور روزمرہ انتظامی فیصلے لینے کے لیے وہی چند چہرے رہ جاتے ہیں، ٹاس کی تجویز بظاہر سادہ حل لگتی ہے، مگر کیا ایک صدی پرانے ادارے کی قیادت کا اس طرح فیصلہ اس کی سنجیدگی کے شایان شان ہے؟ چھ، چھ ماہ کی باری کا فارمولا بھی کم خطرناک نہیں، ہر چیئرمین اپنے چھ ماہ میں اپنی ترجیحات آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا، پچھلے چیئرمین کے فیصلوں پر نظرثانی، نئی کمیٹیاں، نئے کنوینرز، نئی ترجیحات، یوں تسلسل کا جنازہ نکل سکتا ہے۔لاہور جمخانہ کا اصل چیلنج اس وقت مالی نظم و نسق، ممبرشپ کی شفافیت، اور سہولیات کی اپ گریڈیشن ہے جس کے لیے مضبوط، ہم آہنگ اور مستقل مزاج قیادت درکار ہے، چھ ماہ کی عارضی چیئرمین شپ میں کون طویل المدتی فیصلے کرے گا؟ کون بڑے منصوبوں کی ذمہ داری لے گا جب اسے معلوم ہو کہ آدھے سال بعد کرسی کسی اور کے پاس ہوگی؟

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سابق چیئرمین حضرات تجربہ رکھتے ہیں،ان کے پاس کلب کی تاریخ، اس کے قواعد و ضوابط اور اس کی اندرونی سیاست کی گہری سمجھ بوجھ ہے، اگر وہ اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر عملی کردار ادا کریں تو یہ کمیٹی سنہری ثابت ہو سکتی ہے اور اگر ہر سابق چیئرمین خود کو ممکنہ یا وقتی سربراہ سمجھتا رہا تو پھر ہر میٹنگ طاقت کے مظاہرے میں بدل جائے گی، اصل سوال یہی ہے، کیا یہ کمیٹی اجتماعی دانش کا مظاہرہ کرے گی یا اجتماعی انا کا؟ یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ کیا کلب کی سیاست اب خدمت سے زیادہ حیثیت کی جنگ بن چکی ہے؟ ممبرز کی بڑی تعداد صرف یہ چاہتی ہے کہ کلب کا ماحول خوشگوار رہے، سہولیات بہتر ہوں، اور مالی معاملات شفاف ہوں، انہیں نتائج چاہئیں، مگر نتائج اسی وقت آئیں گے جب کمیٹی بطور ٹیم کام کرے گی، ایک ممکنہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ چیئرمین شپ کے مسئلے کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے، دونوں گروپ ایک متفقہ، نسبتاً غیر متنازع شخصیت کو چیئرمین نامزد کریں جو پل کا کردار ادا کرے، ایسا شخص جو سابق چیئرمین بھی ہو سکتا ہے مگر اس کی پہچان مفاہمت اور انتظامی صلاحیت ہو، نہ کہ دھڑے بندی۔

اگر ٹاس یا باری کا فارمولا بھی اپنانا پڑے تو اس کے ساتھ واضح تحریری روڈ میپ طے کیا جائے کہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے گا اور چھ ماہ بعد آنے والا چیئرمین پچھلے فیصلوں کو ازسرنو نہیں کھولے گا، کمیٹیوں کی تشکیل بھی اس بار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جائے گی، اگر سابق چیئرمین حضرات ذیلی کمیٹیوں میں بیٹھنے سے گریز کریں گے تو یہ خلا کون پر کرے گا؟ کیا نوجوان ممبرز کو آگے لایا جائے گا؟ یہ ایک موقع بھی ہے کہ نئی قیادت کو تربیت دی جائے اور مستقبل کے چیئرمین تیار کیے جائیں،ایک اور پہلو جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا وہ ہے کلب کا امیج، لاہور جمخانہ صرف ایک تفریحی مقام نہیں، بلکہ یہ شہر کی اشرافیہ کی نمائندگی کرتا ہے، اگر اندرونی کھینچا تانی میڈیا اور سوشل سرکلز میں تماشا بن گئی تو اس کا اثر ممبرز کی ساکھ پر پڑے گا ۔

یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، اجتماعی بصیرت اور دانش کا ہے، چھ، چھ نشستیں دراصل ایک پیغام ہے ، ممبرز تقسیم ہیں، مگر مکمل طور پر کسی ایک بیانیے کے ساتھ نہیں گئے، اس کا مطلب ہے کہ دونوں گروپوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے اور درمیانی راستہ نکالنا چاہیے۔

جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ وہ اکثریت کے ساتھ ساتھ مفاہمت بھی سکھاتی ہے، آخر میں بات پھر وہی ، کام کون کرے گا؟ اگر کمیٹی کے آدھے ارکان خود کو چیئرمین کے منصب کے شایان سمجھتے ہیں مگر عملی ذمہ داریوں سے کتراتے ہیں تو یہ ادارہ چل نہیں پائے گا اور اگر وہ یہ طے کر لیں کہ اس بار اصل مقصد کلب کی بہتری ہے، نہ کہ ذاتی وقار، تو یہی برابری طاقت میں بدل سکتی ہے۔