لاہور:ٹی ایل پی کا “لبیک یا اقصیٰ” مارچ جاری،سعد حسین رضوی کی اہلیہ اور بچی گرفتار

لاہور (نمائندگان+ایجنسیاں)رات دیر گئے پولیس اور رینجرز کی مشترکہ کارروائی میں تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کے دوران ان کے کئی خاندان کے افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سعد حسین رضوی کی اہلیہ اور چند ماہ کی بیٹی بھی شامل ہیں۔ چھاپے کی وجوہات اور ممکنہ الزامات کے بارے میں ابھی حتمی معلومات موصول نہیں ہوئیں۔

سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دی گئی اور علاقے میں حد سے زیادہ خلل سے بچنے کیلئے اقدامات کیے گئے۔محکمہ انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس چھاپے یا حافظ سعد حسین رضوی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

پولیس نے چھاپے کے دوران رہائش گاہ کی تلاشی لیتے ہوئے وہاں سےمہنگی گھڑیاں اور دوسرے قیمتی تحائف کے علاوہ مختلف بیگز میں‌سے نقد رقم بھی برآمدکی ہے.

علاوہ ازیں تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے زیرِ اہتمام “لبیک یا اقصیٰ” مارچ جاری ہے، جس کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسرائیل کے خلاف احتجاج ہے۔ یہ مارچ لاہور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا تھا، تاہم حکومتی اقدامات کے باعث اس کی پیشرفت میں رکاوٹیں آئیں۔

اسرائیل مخالف مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد ہزاروں کی تعداد میں تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان ہفتے کے روز دارالحکومت کی جانب مارچ کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔

ٹی ایل پی نے اپنے مظاہروں کا آغاز جمعرات کو لاہور سے کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے تک مارچ کرے گی، تاکہ غزہ میں 2 سالہ جنگ کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے رپورٹ کیاکہ یہ مظاہرے جمعے کو پرتشدد ہوگئے تھے، جب پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس فائر کیے، جب کہ مظاہرین نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا تھا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی اقدامات اور ٹریفک پابندیوں کے باعث سرگرمیاں مسلسل دوسرے روز بھی متاثر رہیں، حکام نے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی اور اہم سڑکیں بند کر دیں، دارالحکومت کی اہم شاہراہوں پر مظاہرین کی آمد کے پیشِ نظر شپنگ کنٹینرز بطور رکاوٹ رکھے جا رہے تھے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ’دارالحکومت میں ہر قسم کی بھاری گاڑیوں کا داخلہ اگلے احکامات تک معطل رہے گا۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ فیض آباد کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث ٹریفک میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، اور شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ متبادل راستے اختیار کریں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں۔

کمیٹی چوک، لیاقت باغ موڑ، ڈی اے وی کالج چوک، ایم ایچ چوک، اور ناز سنیما سمیت اہم چوراہے بند کر دیے گئے ہیں، صدر کے علاقے میں حیدر روڈ، سوزوکی اسٹینڈ اور مری چوک بھی بند رہے، جب کہ کچہری چوک جانے والے راستے ناقابلِ رسائی رہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سوان پل اور نیو گلزار قائد پر جزوی ٹریفک بحال ہو گئی ہے، مگر چکری، تھالیاں، برہما، اور مندرہ جیسے بڑے انٹرچینجز بدستور بند ہیں، جس سے راولپنڈی کی اہم شاہراہوں پر رسائی منقطع ہو گئی ہے، یہی صورتحال دیہی داخلی راستوں پر بھی رہی، جہاں ڈھوک تلا موڑ، میسہ کسوال، بائی خان پل، اور جی ٹی روڈ نزد گوجر خان بند رہے۔

ادھر موٹروے حکام کے مطابق ایم-1 صرف پشاور کی سمت میں کھلی ہے، جب کہ ایم-2 راولپنڈی اور لاہور دونوں سمتوں میں بند ہے۔

ایک سینئر پولیس اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ جمعے کی جھڑپوں میں 50 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، جب کہ ٹی ایل پی کے بعض کارکنوں کی ہلاکت کے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ٹی ایل پی کا کہنا تھا کہ مظاہرے دراصل اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کی مخالفت کیلئےمنظم کیے گئے تھے، جس کی پاکستان نے حمایت کی، تاہم اب یہ فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیلئےکیے جا رہے ہیں۔

ٹی ایل پی کے سینئر رہنما علامہ محمد عرفان نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ہمارے کوئی اور مطالبات نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ ہم غزہ کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ ہم کب اسلام آباد پہنچیں گے، مگر حکومت ہمارے ساتھ ظلم کر رہی ہے۔ ہم حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہے۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعرات کو عہد کیا تھا کہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ اسلام آباد میں کسی بھی انتہا پسند سرگرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جو معاہدہ حماس اور فلسطین کے لیے قابلِ قبول ہے، وہ آپ کیلئےکیوں قابلِ قبول نہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں