لندن:وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے گرومنگ گینگز پر قومی انکوائری کاباضابطہ اعلان کر دیا

لندن(نمائندہ خصوصی)برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے ملک بھر میں بچوں کے جنسی استحصال اور گرومنگ گینگز کے معاملے پر ایک قومی قانونی انکوائری کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام اُس پالیسی تبدیلی کی علامت ہے جو وزیر اعظم نے گزشتہ پانچ ماہ میں اپنائی ہے — جب انہوں نے ابتدا میں مکمل قومی انکوائری کی تجاویز کو رد کر دیا تھا۔

سر کیئر اسٹارمر نے یہ اعلان کینیڈا کے شہر کیلگری میں منعقدہ جی سیون (G7) اجلاس میں شرکت کیلئےروانگی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا“یہی درست قدم ہے کہ بیرونس کیسی کی سفارشات کو قبول کیا جائے۔ یہ طے کرنے میں کچھ وقت لگے گا کہ انکوائری کس طرح عمل میں لائی جائے لیکن ہم اسے منظم طریقے سے آگے بڑھائیں گے۔”

یہ فیصلہ ہاؤس آف لارڈز کی رکن بیرونس لوئیس کیسی کی جانب سے کی گئی قانونی آڈٹ سفارشات کے بعد سامنے آیا ہےجنہیں وزیر اعظم نے اس مقصد کیلئےمقرر کیا تھا کہ بچوں کے جنسی استحصال پر ماضی کی تحقیقات میں موجود شواہد کے خلا کو پر کیا جا سکے۔ ان کی رپورٹ میں متاثرہ بچوں اور گینگز کی نسلی ساخت سمیت مختلف پہلوؤں پر تحقیق کی گئی۔

ابتدا میں وزیر اعظم اور بیرونس کیسی دونوں کا خیال تھا کہ نئی انکوائری ضروری نہیں لیکن حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے شواہد نے اس مؤقف کو تبدیل کر دیا۔جنوری میں پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا تھا“متاثرہ افراد جن سے میں نے بات کی، وہ اس بات پر فکرمند ہیں کہ نئی انکوائری کہیں انصاف میں مزید تاخیر نہ بن جائے۔”

اس پس منظر میں وزیر داخلہ یویٹ کوپر نے 16 جنوری کو فوری مقامی سطح پر ٹارگٹڈ تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور ساتھ ہی بیرونس کیسی کو ایک وسیع آڈٹ کا ٹاسک دیا گیا۔اب وزیر اعظم کے مطابق، نئی قومی انکوائری ان مقامی تحقیقات کو ہم آہنگ کریگی اور ایک جامع فریم ورک تشکیل دیگی جس سے مستقبل میں بچوں کو ایسے استحصال سے بچایا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ اس اعلان سے ایک روز قبل راچڈیل میں دو کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے مقدمے میں سات افراد کو عدالت نے مجرم قرار دیا تھا جس نے اس مسئلے کی حساسیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں