ماضی، ہمیشہ اچھا ہوتا ہے،یاد آتی ہے!

کئی روز سے یادِ ماضی کا دورہ ہے،درمیان میں ایسے واقعات آ جاتے رہے کہ قلم نے گزرے وقت کو دیکھنے اور تحریرسے انکار کر دیا مجبوراً حال حاضر کی طرف جانا پڑا،ان ہی حالات میں کیفیت میں تبدیلی بھی آئی کہ لکھنے کو دِل ہی نہ چاہا کہ جو منظر سامنے ہیں ان میں سے اکثر کے حوالے سے پہلے ہی عرض کیا جا چکا، دوسرے میرے سامنے مائیک بھی نہیں کہ بولنا مجبوری ہو،چاہے مذکورہ موضوع پر قدرت ہی نہ ہو۔ بہرحال دِل کڑا کر کے سوچا کہ آج ذرا اپنے اندر (معاف کیجئے گریبان لکھنے سے گریز کیا کہ کچھ لوگ اپنا ہی نہ سمجھ لیں) بھی جھانک لیا جائے یا پھر ماضی کے حالات کے حوالے سے بھی حاضرہ کیفیت پر نظر ڈال لی جائے۔ گذشتہ دِنوں ایک خبر نظر سے گذری کہ صوبائی محکمہ ثقافت نے محدود پیمانے پر بسنت منانے پر غور کیا ہے جو دو روزہ ہو گی،خبر میں محدود پیمانے کی تشریح نہیں تھی،اس لئے یہی خیال گذرا کہ اس سے مراد ثقافتی تقریبات ہو سکتی ہیں کہ پتنگ بازی پر تو پابندی ہے ہے، شاید اس بات کو نظر انداز کیا گیا کہ بسنت اور پتنگ بازی تو لازم و ملزوم ہیں۔

ابھی اسی مسئلہ پر بحث جاری تھی کہ گذشتہ ہفتے پھر ایک دلدوز سانحہ ہو گیا،ایک نیم متوسط گھرانے کا واحد کفیل نوجوان قاتل ڈور گلے پر پھر جانے سے لواحقین کو روتا چھوڑ کر اگلے جہاں روانہ ہو گیا۔یوں سوشل میڈیا نے بجا طور پر احتجاج شروع کر دیا، وزیراعلیٰ کی طرف سے معمول کے مطابق رپورٹ طلب کر لی گئی، پولیس کے بھاری بھر کم حضرات بھاگے بھاگے، مقتول کے گھر پہنچے اور رپورٹ درج کر لی، والد کی آہ و بکا الیکٹرونک میڈیا پر نشر ہو گئی، اس کے بعد اللہ اللہ اور خیر صلّا،اب بات آئی گئی ہو گئی کہ اس نوجوان کی موت کے علی الرغم بڑے مسائل سامنے ہیں، اہم تر معاملہ تو امن و امان ہے جسے برقرار رکھنے کے لئے ایک دینی جماعت پر پابندی کا فیصلہ ہو گیا ہے۔اس حوالے سے صوبائی حکومت کی طرف سے سخت تر کارروائی کی گئی اور الزامات کی بڑی تفصیل بھی نشر اور شائع ہوئی،میں نے اس موضوع کو بوجوہ چھوڑ دیا کہ دوسرے فریق کا موقف سامنے نہیں آیا اور سوشل میڈیا میرے لئے قابل اعتماد نہیں۔بہرحال اس مسئلہ کے علاوہ بھی بہت سی سیاسی الجھنیں ہیں جو پانی میں مدانی کے طور پر چلی جا رہی ہیں اور سلجھنے کا نام ہی نہیں لیتیں۔انہی میں ایک امر مہنگائی بھی ہے جس نے سفید پوش طبقے کو بھی کفایت سے محرومی پر مجبور کر دیا ہے۔

مہنگائی ہی وہ مسئلہ ہے جو ماضی میں لے گیا تھا، کہ اس میں پتنگ کی قاتل ڈور سے ایک اور نوجوان کی موت بھی شامل ہو گئی، مہنگائی تو ٹماٹر کی قلت اور قیمت سے یاد آئی جبکہ بسنت منانے والے دن بھی آنکھوں کے سامنے پھر گئے یوں دونوں امور ہی آپس میں گڈ مڈ ہو گئے،ٹماٹر ایک ایسی سبزی ہے جسے ماضی بعید میں امریکہ میں زہریلی شے قرار دیا گیا تھا، لیکن حقیقت یہ کہ اب ٹماٹر کے بغیر سالن بننا ہی ممکن نہیں رہا اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ سبزی ایک سے زیادہ بار قلت کا شکار کی گئی اور قیمت بڑھنے سے واویلا بھی ہوا تاہم اِس بار تو سیلاب اور اس کے بعد افغان ٹریڈ کی بندش کے عذر پر اس کے نرخ ایک دونہیں، چھٹی سنچری سے ساتویں تک پہنچ گئے حتیٰ کہ دس روز قبل جب میں خود سبزی لینے منڈی گیا تو ٹماٹر550 روپے فی کلو ملے چنانچہ دِل کڑا کر کے ایک کلو ہی خریدنے پر اکتفا کیا۔اسی طرح مٹر بھی ٹماٹر کے مقابلے میں 500روپے فی کلو تھے اور اِسی تناسب سے باقی سبزیوں کے نرخ بھی بڑھے ہوئے تھے، دوکانداروں کا دیرینہ موقف ہے کہ تھوک کے نرخ زیادہ ہوں گے تو ہم بھی مجبور ہوں گے،حالانکہ تھوک اور پرچون کے نرخ میں مناسب سے زیادہ فرق ہوتا ہے جبکہ طلب کے مقابلے میں رسد کم کرنے والے ہاتھ ذخیرہ اندوزوں کے ہوتے ہیں جو جب چاہیں مال روک کر مہنگائی کر دیں،جیسے برائلر مرغی اور انڈوں کا مسئلہ ہے۔مرغی کے نر خ بڑھتے بڑھتے سات، آٹھ سو کو چھونے لگے تو انڈے280 سے 285روپے درجن تھے۔پھر صارفین کی بس ہوئی، مرغی کی فروخت میں کمی آئی۔منافع کے لالچ میں مرغی خانوں میں زیادہ لی گئی پیداوار بوجھ بننے لگی کہ وزن بڑھنے لگا، مرغی کو رکھ کر فیڈ کھلانا منافع میں کمی کا باعث بنا تو بتدریج نرخ کم ہونا شروع ہوئے اور400روپے فی کلو تک پہنچ گئے لیکن صاحبان مرغی خانہ نے اپنے منافع کے لئے انڈے مہنگا کرنا شروع کر دیئے اور350 روپے درجن تک پہنچا دیئے۔ برانڈڈ انڈے جو کمپنیاں پیک کرتی ہیں، 400روپے فی درجن سے بھی بڑھ گئے عوام منہ ہی دیکھتے رہ گئے اور دیکھ رہے ہیں۔

انہی حالات نے مجھے ماضی میں پہنچا دیا، جب مزدور کی روزانہ اجرت دو سے ڈھائی روپے ہوتی تھی تاہم دیسی گھی پونے چار روپے سیر، بکرے کا گوشت ایک روپے سیر (صاف تر) کلچہ جسے آج نان کہتے ہیں، ایک آنے کا ایک اور چار آنے(چونی) کے پانچ ملتے تھے۔ اسی تناسب سے دالیں اور سبزیاں بھی سستی ترین تھیں اور ڈھائی روپے روز کمانے والا بھی گوشت اور دودھ سے شغل فرما لیتا تھا جبکہ زیادہ تر اشیاء خالص بھی ہوتی تھیں۔ آج کے دور میں اس زمانے کی تعریف کرنے والوں کو جاہل کہا جاتا ہے کہ تب نہ ٹیلیویژن کی بیماری تھی اور نہ موبائل اور سوشل میڈیا کا عذاب اور نہ لمبی لمبی کاریں تھیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ مطمئن اور خوش تھے۔ آج کی جدید ضرورتیں عذاب نہ بنی تھیں اور نہ ہی دِل اتنے سیاہ ہوتے تھے، تب جرائم کی شرح بھی کم تھی۔ یہ سب عذاب اور ترقی تو 1958ء کے ایوبی مارشل لاء کے بعد ہی شروع ہوئے تھے اور آج ہرا دھنیا بھی تول کر بکتا ہے، تب سبزی کے ساتھ ہری مرچ اور دھنیا مفت دیا جاتا تھا۔ آج کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔

کالم مکمل کرنے سے پہلے خونی ڈور،بسنت اور پتنگ بازی کی بھی بات کر لیں،میں خود لڑکپن سے جوانی تک پتنگ بازی کا شوقین رہا ہوں۔بسنت کا انتظار کیا جاتا تھا، پتنگیں بنوائی جاتیں اور ڈور کو اپنی پسند سے مانجھا لگایا جاتا۔ یہ ڈور دھاگے والی ہوتی، نہ تو نائیلون کا دھاگا ہوتا اور نہ ہی دھاتی ڈور کی علت اور برائی تھی،حادثات گلے پر ڈور پھرنے سے نہیں،چھتوں سے گرنے یا سڑکوں پر بھاگنے سے ہوتے تھے لیکن برا ہوا فیشن اور مہنگائی کا جس کے باعث نائیلون کے مضبوط تر دھاگے کو تیز مانجھا لگوا کر اپنی پتنگ کے تحفظ کا نیا ہنر آیا اور پھر غربت نے دھاتی ڈور پیدا کی کہ کٹی پتنگیں چمٹا کر لائی جا سکیں۔یوں بسنت کا تہوار جو نائٹ بسنت اور کلچرل تقریبات تک پہنچ گیا تھا خونی بن گیا۔دھاتی ڈور نے برقی رو معطل کرنا شروع کر دی، آج حالات یہ ہیں کہ مجبوراً لگائی گئی پابندی کو بھی ہوا میں اُڑا دیا جاتا ہے اور ہر موسم بہار کی آمد اور بسنت سے قبل اموات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔میرے خیال میں اصل وجہ قاتل ڈور(موٹے دھاگے والی ڈور اور نائیلون کے دھاگے والی) اور دھاتی تاریں ہیں جو لالچ کے باعث تیار کی جاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں