وزیراعلیٰ مریم نوازشریف بدستور سرگرم عمل ہیں اور عوامی بہبود کے حوالے سے کام بڑھاتی چلی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بعض ایسے منصوبوں کی تکمیل کا بھی بیڑہ اٹھا لیا ہے جو تین سے چار دہائیاں قبل تجویز اور اعلان کئے گئے۔ میری مراد کوڑے کے استعمال کی ہے۔-81-1980ء میں ایشین بینک کے تعاون سے یہ تجویز زیر غور آئی مگر تکمیل نہ ہو سکی۔ اب وزیراعلیٰ نے بائیوگیس منصوبوں کا اعلان کیا تو بیک وقت چھ مقامات پر شروع کرکے جلد مکمل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ ہم نے ہمیشہ اچھے کام کی تعریف کی اور جہاں کہیں کمی ہوئی نیک نیتی سے توجہ بھی مبذول کرائی اگرچہ تجربہ یہ ہے کہ آج کے دور میں نقارخانے میں طوطی کی آواز نہیں سنی جاتی اور سب اچھا کی بات ہی پہنچائی جاتی ہے لیکن میں بھی اپنے اندر والے سے مجبور ہوں اور بعض معاملات پر توجہ دلانا لازم جانتا ہوں۔ آج بھی مجھے کچھ کہنا ہے اور کہہ رہا ہوں۔
وزیراعلیٰ کی توجہ لاہور کے ٹریفک مسائل کی طرف براہ راست دلانے کے بعد اصل موضوع کی بات کرونگا کہ مقصد وہی ہے اور ٹریفک کے مسئلہ سے متعلق ہے۔ میں نے اس حوالے سے کئی بار گزارش کی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بات وزیراعلیٰ تک نہیں پہنچی۔ شاید یہ سب اچھا میں شامل نہیں۔ لاہور میں اب کوئی بھی مرکزی سڑک ایسی نہیں جہاں ٹریفک جام کے مناظر نہ ہوں اور ٹریفک وارڈنز درستگی کی کوشش کر رہے ہوں کہ ان کے فرائض میں موٹرسائیکل والوں کو ہیلمٹ کے حوالے سے سبق سکھانا شامل ہے۔ ٹریفک کی حالت یہ ہے کہ مصروف اوقات میں کینال روڈز، جیل روڈ، فیروزپور روڈ، لٹن روڈ، ملتان روڈ، سرکلر روڈ اور علامہ اقبال روڈ پر ایک نظر ڈال لی جائے تو واضح ہوجائے گا کہ صورت حال کیا ہے۔ محترمہ آپ خود کہتی اور مریم اورنگزیب صاحبہ کا تو فرمانا ہی یہ ہے کہ یہ ٹریفک جام ماحولیاتی آلودگی کا بھی باعث ہیں کیونکہ مصروف اوقات کیا بلکہ دن کے زیادہ حصہ میں ان سڑکوں پر یہی کچھ ہوتا ہے۔ جہاں تک کینال روڈز کا تعلق ہے تو یہ شمالاً جنوباً ہیں۔ منصوبہ سازوں اور نگران ادارے ایل ڈی اے کی عقل مندی یہ ہے کہ آبادی کا پھیلاؤ جنوب کی طرف بڑھنے دیا گیا۔ اب زیادہ تر رہائشی سکیمیں ملتان روڈ کی جانب بنی ہیں لیکن ان کے لئے پہلے سے موجود رابطہ سڑکوں کے علاوہ مزید کوئی راستہ نہ بنایا گیا جو ان آبادیوں کے باعث ٹریفک کے بوجھ میں معاونت کا ذریعہ ہوتا، چنانچہ سارا بوجھ کینال روڈز پر آ گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ جونہی دفاتر اور تعلیمی اداروں کی چھٹی کا وقت ہوتا ہے تو یہ سڑکیں گاڑیوں کے ذخائرکا نظارہ پیش کرتی ہیں۔ کاریں اور دیگر سواریاں ”بمپر ٹو بمپر“ چلتی اور بار بار رکتی ہیں کہ ٹریفک قواعد یا اصول کی پابندی نہیں کی جاتی۔ ان سڑکوں پر وارڈنز شاذ ہی نظر آتے ہیں، حالانکہ میں پہلے بھی گزارش کر چکا کہ یہاں بہتری کی گنجائش کسی مزید خرچ سے ممکن ہے۔ وجہ صرف اتنی ہے کہ ڈرائیور حضرات لین کی پابندی نہیں کرتے۔ ایک دوسرے کو راستہ نہیں دیتے، دو انڈر پاسز کے درمیان ٹریفک چار سے پانچ لین بنا کر چلتی اور کئی حضرات زگ زیگ کرتے ہیں، اب ہوتا یوں ہے کہ کینال روڈ کے تمام انڈر پاس صرف تین لین والے ہیں اور بائیں سے صرف موٹرسائیکل گزار سکتے ہیں لیکن پیچھے سے چوتھی، پانچویں لین میں آنے والے تیزی سے انڈر پاس والی لین میں بائیں سے آکر گھستے ہیں تو چلتی ٹریفک رکنے پر مجبو رہو جاتی ہے اس کا اثر پیچھے آنے والی ٹریفک پر پڑتا ہے اور جام یقینی امر ہے اس سے نہ صرف فیول کا خرچ بہت بڑھ جاتا ہے بلکہ ایگزاسٹ کے باعث آلودگی بھی بڑھتی ہے اس کا فوری حل تو یہ ہے کہ شہریوں کو لین کی پابندی پر مجبور کیا جائے۔ سیدھے جانے والے انڈرپاس کی گنجائش کے مطابق تین لین بنا کر چلیں اور بائیں والے بھی اپنی لین میں آئیں یا رہیں، یہ بھی عبوری حل ہے لیکن مثبت ہے عمل سے فوائد نظر آ جائیں گے۔
اب دانشور حضرات کی ذرا اس تجویز پر بھی غور کرلیں کہ دنیا کے بڑے اور گنجان شہروں کی طرح پاکستان میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جائے کہ اپنی کاروں والے لوگ بھی بس کے سفر کو ترجیح دیں، یہ بڑی معقول تجویز ہے اور پنجاب حکومت نے ادھر توجہ بھی دی ہے لیکن یہ توجہ ضرورت کے مطابق نہیں، ایک دور تھا کہ لاہور میں اومنی بس سروس تھی اور شہری اس میں سفر کرتے تھے، اس سروس کو بین الاضلاعی گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کے ساتھ ہی نظر لگ گئی اور یہ دونوں سروسز بند ہوگئیں اس کے بعد لاہور میں مسلم لیگ (ن) ہی کے دور میں لاہور ٹرانسپورٹ اتھارٹی بناکر دو سو سے زائدبسیں چلائی گئیں، ان سے عوام بہت مستفید ہوئے کہ زیادہ تر ایئرکنڈیشنڈ تھیں اور کرایہ بھی معقول حد تک کم تھا، اس کے علاوہ شہر میں دائیو سروس بھی چلتی تھی، یہاں بھی نظر لگ گئی اور یہ سینکڑوں بسیں ڈپو میں کھڑی کھڑی کوڑا بن چکی ہیں، کسی قسم کی کوئی تحقیقات نہ ہوئی کہ یہ کیوں اور کیسے ہوا؟ اس کے بعد محمد شہبازشریف کی ہمت سے یہاں اورنج لائن ٹرین اور میٹرو بس سروس کا اجراء ہوا، تاہم یہ محدود تعداد میں تھیں اور ہیں۔ دائیو سروس کی جگہ میٹروبس کے لنک کے طور پر سپیڈو چلائی گئیں اس بس سروس کو دس سال سے زیادہ ہو گئے۔ بسیں پرانی ہونے کی وجہ سے خراب ہوگئیں اور اب اکثر کھڑی بھی رہتی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، اس پر طرۂ یہ کہ لاہور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی توجہ کم ہوگئی۔ سپیڈو بسوں کے کرایہ کلیکشن کا سافٹ ویئر خراب ہو چکا، اب فی سٹاپ 25روپے کٹتے ہیں، لیکن اناؤسمنٹ پہلے کی طرح جاری کہ اترتے وقت کارڈ سکین کریں اس کے مطابق کارڈ سکین ہو تو مزید 25روپے کٹ جاتے اور مسافر کو ایک سٹاپ کے 50روپے دینا پڑ جاتے ہیں، اس طرح اگر دوسرے سٹاپ کے پانچ روپے والی سہولت ختم ہوئی تو کارڈ والوں کو بقایا (بیلنس) کا بھی پتہ نہیں چلتا اور یہ سب صوبائی دارالحکومت اور سرکار کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ بجلی سے چلنے والی بسیں چلا کر بہت خوش ہیں اور ہونا بھی چاہیے،لیکن اس تجویز کو منظور کرتے وقت غور نہیں کیا گیاکہ مختلف شہروں میں پندرہ اور اس سے زیادہ بسیں دینا صرف مخصوص روٹ کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ شہر کے دیگر حصے محروم رہتے ہیں، جیسا کہ لاہور میں گرین ٹاؤن سے ریلوے اسٹیشن اورٹھوکر نیاز بیگ سے بی آر بی تک دو روٹ ہی چلتے ہیں اور عوام اچھی ٹرانسپورٹ کے ساتھ صرف 20روپے کرائے کے عوض محظوظ ہو رہے ہیں جبکہ سینئر سٹی زن (بزرگ شہری) مستثنیٰ ہیں یہ سب قابل تعریف ضرور ہے لیکن مسئلہ کا حل نہیں،اس کیلئےآپ کولاہور شہر کیلئے ایک ہزار بسوں کی ضرورت ہے اگر بوجوہ ایسا ممکن نہیں تو ڈائیوو والی پرانی بسیں تبدیل کر کے کم از کم دو سو بسیں اور لا کر شہر کے مزید روٹوں پر چلائیں اسی سے بہتوں کا بھلا ہوگا۔

