ایشیاء کپ میں بھارت نواز میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ اور آئی سی سی پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور
متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیاء کپ کے دوران پاک بھارت میچ سے شروع ہونے والا تنازعہ بالاخر پاکستان کی فتح پر ختم ہوگیا۔ آئی سی سی کے میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ نے اپنے اپنے غیر مناسب طرز عمل پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینجر نوید اکرم چیمہ اور کپتان سلمان علی آغا سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔اینڈی پائیکرافٹ نے بھارت اور پاکستان کے میچ میں دونوں ٹیموں کے کپتانوں کو مصافحہ کرنے سے منع کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے ان کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے میچ سے قبل چند گھنٹے انتہائی ہنگامہ خیز رہے جس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے صورتحال کی کمان سنبھالتے ہوۓ معاملے کو نہایت خوش اسلوبی سے حل کر دیا۔ پی سی بی کے ہیڈ کوارٹر قذافی سٹیڈیم میں دو سابق چئیرمین پی سی بی نجم سیٹھی اور رمیز راجہ بھی صورتحال پر ہونے والے پیچیدہ مشاورتی عمل کا حصہ بنے جس پر دونوں شخصیات ستائش کی مستحق ہیں۔
محسن نقوی کی ایک کال پر دونوں سابق چئیرمین موجودہ حکومت اور محسن نقوی کے ساتھ فکری اور نظریاتی اختلاف کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی عزت و وقار کی خاطر چند منٹوں میں قذافی سٹیڈیم پہنچ گئے امید ہے کہ وہ کرکٹ کی بہتری کیلئے آئندہ بھی بورڈ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ آئی سی سی سے مذاکرات کے دوران محسن نقوی نے دو ٹوک انداز میں موقف اختیار کیا کہ وہ پاکستان کے عزت و وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے جس کے بعد آئی سی سی کے پاس ان کا موقف تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔
محسن نقوی نے اس سے قبل آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے موقع پر بھی بھارتی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے تین سال تک بھارت میں ہونے والے میچز نیوٹرل مقام پر کھیلنے کا معاہدہ کیا تھا۔ ان سے قبل رہنے والے چئرمین پی سی بی مصلحتوں کا شکار ہوکر یکطرفہ طور پر بھارت جاکر میچز کھیلتے رہے تاہم محسن نقوی نے بھارتی حکومت پر واضع کیا کہ اگر بھارتی ٹیم پاکستان نہیں آتی تو پاکستان بھی بھارت میں نہیں کھیلے گا، اسی معاہدے کے تحت خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم رواں ماہ بھارت میں ہونیوالے ورلڈ کپ کے میچز سری لنکا میں کھیلے گی۔

