فلمی دنیا کے بڑے نام میں 24 سے30 نومبر کومسی ساگا میں جمع ہونگے
مسی ساگا (اشرف خان لودھی سے)رواں سال کا سب سے منفرد اور ثقافت کے رنگوں سے بھرپور “موزیک انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول اینڈ سمپوزیم” (MISAFF 2025) 24 سے 30 نومبر تک جاری رہیگا۔ منتظمین کے مطابق اس بار فیسٹیول کا مرکزی نعرہ “Storytellers are survivors” رکھا گیا ہے جس کے ذریعے فلم سازوں کی جدوجہد، ہمت اور فن کے ذریعے سچ کو محفوظ رکھنے کے عزم کو سراہاجائیگا۔
فیسٹیول کے پوسٹر میں ایک علامتی بلیک پینتھر ساحلِ سمندر پر فلمی ریل اور جنوبی ایشیائی خطے کے رنگارنگ پھلوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے جو ثقافت، طاقت اور تخلیق کے ملاپ کی نمائندگی کرتا ہے۔
“فیسٹیول میں ورلڈ پریمیئر، ورکشاپس اور سمپوزیم بھی شامل کیاگیا ہے.منتظمین نے بتایا کہ اس سال فیسٹیول میں عالمی اور جنوبی ایشیائی فلموں کی نمائش،فلم سازوں کے ساتھ مکالمے،انڈسٹری کے مسائل پر سمپوزیم اور نئی نسل کے فلم میکرز کیلئےماسٹر کلاسزکا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
MISAFF کو ٹیلی فلم کینیڈا، آنٹاریو کریئیٹس، کینیڈین ہیریٹیج، شہرِ مسی ساگا، اور متعدد فنونِ لطیفہ اداروں کی سرکاری معاونت حاصل ہے۔ایک ترجمان نے کہا، “جنوبی ایشیائی فلم ساز عالمی سینما کا اہم حصہ بن چکے ہیں اور یہ فیسٹیول ان کی آواز کو مزید بلندی دیتا ہے۔”
“ثقافتی تبادلے اور پاکستانی فلم سازوں کی بھرپور شرکت متوقع”
فیسٹیول میں پاکستان، بھارت، نیپال، سری لنکا، بنگلادیش اور ڈائسپورا کمیونٹی کے فلم سازوں کی خصوصی شمولیت بھی متوقع ہے۔ پاکستانی فلمی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال متعدد پاکستانی فلمیں بھی عالمی ناظرین کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
فنکاروں کا کہنا ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز جنوبی ایشیائی شناخت کو عالمی سطح پر مضبوط بناتے ہیں۔ ایک مبصر نے کہا، “یہ صرف فلم فیسٹیول نہیں بلکہ جنوبی ایشیائی ثقافت کا تہوار ہے۔”
MISAFF 2025 نہ صرف فلمی دنیا کا ایک اہم عالمی ایونٹ بن چکا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے تخلیقی ذہنوں کو اظہار کا معتبر پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ منتظمین کے مطابق اس سال فیسٹیول پہلے سے زیادہ متنوع اور جدید ہوگا، جس کا مقصد “کہانی سنانے والوں” کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

