مصر، ترکیہ سمیت کئی ممالک غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر راضی، یورپی ممالک کا انکار

واشنگٹن (غیر ملکی خبر ایجنسیاں)متحدہ عرب امارات کے بعد ترکیہ، مصر، آذربائیجان اور اسرائیل نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بھی عالمی رہنماؤں پر مشتمل بورڈ آف پیس میں شامل ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب فرانس، اٹلی، سوئیڈن اور ناروے نے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ 20 سے 25 عالمی رہنما غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرچکے ہیں، جبکہ ایران سے بھی رابطہ کیا گیا تھا تاہم اب بات چیت نہیں ہو رہی۔

خبر ایجنسی کے مطابق بورڈ آف پیس کے اراکین کو مستقل اور طویل مدت کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر تک ادائیگی کرنا ہوگی۔ مصری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں صدر ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مصر بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرتا ہے اور اس حوالے سے تمام قانونی اور آئینی طریقہ کار مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔

بیان میں غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے کے دوسرے مرحلے اور بورڈ آف پیس کے مشن کی حمایت کا بھی اعلان کیا گیا۔ دوسری طرف سوئیڈن اور ناروے نے واضح کیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے منصوبے اور بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہوں گے۔ سوئیڈن کا کہنا ہے کہ اب تک پیش کیے گئے مسودے کے ساتھ وہ شرکت کے لیے تیار نہیں، جبکہ ناروے کے مطابق مجوزہ بورڈ آف پیس کے نکات پر امریکا کے ساتھ مزید بات چیت درکار ہے۔