کراچی: مصطفیٰ عامر اغوا، قتل کیس کی آج جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں سماعت ہوئی، جس میں ملزم شیراز نے بتایا کہ اعترافی بیان کیلئے اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے، ملزم شیراز کو دفعہ 164 کے تحت اعترافی بیان ریکارڈ کرانےکیلئے عدالت میں پیش کیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ملزم کو بیان دینے سے قبل سوچنے کیلئےایک گھنٹے کا وقت دیا اور ریمارکس دیے کہ یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے، آپ اچھی طرح سوچ لیں۔
ملزم شیراز نے عدالت میں کہا کہ اس پر اعترافی بیان کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اس سے کہا گیا ہے کہ اعتراف کرو گے توکم سزا ملے گی ملزم نے کہا میں وقوعے کے وقت بے بس تھامجھے کیس میں پھنسایا جا رہا ہے۔ مجسٹریٹ نے کہا کہ اس بیان پر تفتیشی افسر کی جانب سے اعترافی بیان کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
عدالت نے کہا ملزم کا کہنا ہے کہ وہ گواہ ہے اس کے سامنے ارمغان نے مصطفیٰ عامر کو قتل کیا.ملزم نے بتایا کہ وہ بے بس اور لاچار تھا اس لیے کچھ نہیں کر سکا اور اس نے آج تک جو پولیس کو بتایا وہ گواہ بن کر بتایا تھا۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم شیراز کا آج کا بیان ہمارے حق میں ہے اس نے اعتراف کیا ہے کہ قتل اس کے سامنے ہوا۔ ملزم شیراز نے کہا کہ میں ملزم نہیں چشم دید گواہ ہوں میں واحد چشم دید گواہ ہوں جس کے سامنے ارمغان نے مصطفی کو قتل کیا.ارمغان نے لوہے کے راڈ سے مارا پھر گن پوائنٹ پر بلوچستان لے کر گیا اور گاڑی سمیت مصطفیٰ عامر کو جلا دیا۔

