مقبوضہ بیت المقدس( رائٹرز) —مقبوضہ بیت المقدس کے نواحی علاقے رامات جنکشن پر فائرنگ کے واقعے میں 6 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے، دونوں حملہ آور بھی جوابی کارروائی میں مارے گئے۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیلی ایمبولینس سروس نے بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے قریب بس اسٹاپ پر فائرنگ سے 6 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے، جن میں سے 11 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ 6 افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ ہلاک شدگان میں ایک 5 سالہ بچہ، 50 برس کا ایک شخص اور تقریباً 30 سال کے تین مرد شامل ہیں۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق دو حملہ آور گاڑی میں آئے اور رامات جنکشن پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے بعد ایک سیکیورٹی افسر اور ایک شہری نے جوابی فائرنگ کر کے دونوں کو ہلاک کر دیا۔ جائے وقوعہ سے ہتھیار، گولیاں اور ایک چاقو برآمد ہوا۔ پولیس نے حملہ آوروں کو صرف ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا۔
فلسطینی تنظیم حماس نے ان دو فلسطینیوں کو ’’مزاحمتی مجاہدین‘‘ قرار دیتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا تاہم حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ایک اور تنظیم، اسلامی جہاد نے بھی اس واقعے کو سراہا لیکن ذمہ داری نہیں لی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق علاقے میں فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں جو مشتبہ افراد کی تلاش میں پولیس کی مدد کر رہے ہیں، جبکہ مغربی کنارے کے رام اللہ علاقے میں کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ تفتیش اور دہشت گردی کی روک تھام کی جا سکے۔
وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ وہ سیکیورٹی حکام کے ساتھ ’’صورتحال کا جائزہ‘‘ لے رہے ہیں۔ رائٹرز کی فوٹیج میں جائے وقوع پر پولیس کی بھاری نفری موجود دکھائی دی۔ ایمبولینس سروس نے بتایا کہ پیرا میڈکس نے کئی متاثرین کو سڑک اور فٹ پاتھ پر پایا جن میں سے بعض بے ہوش تھے۔
یاد رہے کہ نومبر 2023 میں بھی بیت المقدس کے ایک بس اسٹاپ پر دو فلسطینیوں نے فائرنگ کر کے 3 افراد کو ہلاک کیا تھا، جبکہ اکتوبر 2024 میں تل ابیب میں دو فلسطینیوں نے حملہ کر کے 7 افراد کو قتل کیا تھا۔

