ممبئی(ایجنسیاں)بھارت کی مطلوب ترین جرائم پیشہ شخصیت داؤد ابراہیم کی چار آبائی زمینیں بالآخر سرکاری نیلامی میں فروخت ہو گئیں۔ یہ زمینیں گزشتہ کئی برس سے فروخت کے لیے پیش کی جا رہی تھیں مگر خریدار نہ ملنے کے باعث چار مرتبہ نیلامی ناکام رہی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مرکزی حکومت نے 5 مارچ کو اسمگلرز اینڈ فارن ایکسچینج مینی پولیٹرز ایکٹ کے تحت نیلامی کا انعقاد کیا، جس میں ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک بولی دہندہ نے سب سے زیادہ قیمت پیش کرتے ہوئے تمام چار پلاٹس خرید لیے۔
یہ زمینیں مہاراشٹر کے رتناگیری ضلع کے گاؤں ممبکے میں واقع ہیں، جو داؤد ابراہیم کا آبائی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ کئی جائیدادیں ماضی میں ان کی والدہ امینہ بی کے نام پر رجسٹرڈ تھیں۔ نیلامی کے دوران ایک پلاٹ 10 لاکھ روپے سے زائد میں فروخت ہوا جبکہ باقی 3 پلاٹس کی بنیادی قیمتیں بالترتیب 2.33 لاکھ، 8.08 لاکھ اور 15 ہزار 440 روپے تھیں۔ حکومت نے خریدار کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم قواعد کے مطابق مکمل ادائیگی اپریل 2026ء کے آغاز تک کرنا لازمی ہوگی۔
سال 2017، 2020، 2024 اور 2025 میں کی گئی نیلامیوں میں کسی نے دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق داؤد ابراہیم اور ڈی کمپنی سے وابستگی، زمینوں کا دور دراز مقام، صرف زرعی استعمال کی پابندی اور فوری مالی فائدہ نہ ہونا خریداروں کی عدم دلچسپی کی بڑی وجوہات تھیں۔
داؤد ابراہیم ڈی کمپنی کا سربراہ اور 12 مارچ 1993ء کو ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کا مرکزی ملزم ہے، جن میں 257 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کی فہرست میں شامل داؤد ابراہیم طویل عرصے سے بھارت کے مطلوب ترین افراد میں شمار ہوتا ہے۔

