منی پور میں ایک بار پھر احتجاج، سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں تناؤ

اِمپھال(نیٹ‌نیوز) بھارتی ریاست منی پور کے دارالحکومت اِمپھال میں پھر پرتشدد احتجاج پھوٹ پڑا، جب سیکیورٹی فورسز نے میتئی رہنما کانن سنگھ کو گرفتار کیا۔ گرفتاری کے خلاف سینکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔

مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے فروری 2025 میں حکومتی یقین دہانی پر ہتھیار ڈال دیے تھے جس کے تحت حفاظتی ضمانت دی جانی تھی۔ تاہم اب اُن کی گرفتاری کو مظاہرین نے اعتماد شکنی اور دھوکہ قرار دیا ہے۔

ریاستی حکومت نے اِمپھال کے متعدد اضلاع میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے پانچ روز کیلئےانٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی ہے تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، ریاست میں جاری نسلی کشیدگی کے باعث میتئی اور کوکی برادریوں کی جانب سے گرفتاریوں میں شدید مزاحمت سامنے آ رہی ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

واضح رہے کہ منی پور میں مئی 2023 میں شروع ہونے والے نسلی فسادات کے نتیجے میں 260 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 50 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ریاست تاحال امن و امان کے بحران سے دوچار ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں حالات پر گہری تشویش ظاہر کر رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں