واشنگٹن(ایجنسیاں)صدر ٹرمپ نے منیاپولس اور منیسوٹا میں جاری مظاہروں کے بعد خبردار کیا ہے کہ وہ ریاست میں فوج تعینات کرنے کیلئے صدیوں پرانا “محدود بغاوت کا ایکٹ” (The Insurrection Act) نافذ کرسکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کا بیان انٹرنیٹ پر شیئر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر منیسوٹا کے حکام قانون کی پاسداری نہیں کریں گے، پیشہ ورانہ احتجاج کو نہیں روکیں گے اور آئی سی ای (Immigration and Customs Enforcement) کے اہلکاروں پر حملے بند نہیں ہوں گے تو وہ اس ایکٹ کا نفاذ کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان سے پہلے بھی کئی امریکی صدور نے اس ایکٹ کو مخصوص حالات میں نافذ کیا، جس کے تحت ملک کے اندر فوج یا نیشنل گارڈ کو تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ بدامنی، بغاوت یا بڑے پیمانے پر شہری انتشار کو کنٹرول کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ منیاپولس میں 37 سالہ رینی نکول گُڈ پر ہونے والی جان لیوا فائرنگ کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، جس کے نتیجے میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) ایجنسی کو سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔
انسریکشن ایکٹ (1807) امریکی تاریخ میں کم ہی استعمال ہوا ہے، خاص طور پر شہری حقوق کی تحریک کے دوران۔ موجودہ صورتحال میں اس کا نفاذ ایک غیر معمولی اور انتہائی سخت اقدام سمجھا جا رہا ہے۔دوسری جانب منیسوٹا کے حکام اور منیاپولس کے میئر نے صدر کے بیان پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ فوجی دھمکیاں صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں اور مقامی کمیونٹیز میں خوف پیدا کریں گی۔

