تیانجن/نئی دہلی/بیجنگ(ایجنسیاں) بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ نے طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد تعلقات کو نئی راہ پر ڈالنے کا عندیہ دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی، جس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت خطے کے دیگر رہنما بھی شریک ہیں۔
مودی نے کہا کہ نئی دہلی تعلقات کو “باہمی احترام، اعتماد اور حساسیتوں” کی بنیاد پر آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ہمالیائی سرحد پر 2020 کی جھڑپوں کے بعد پیدا ہونے والا تعطل ختم ہو رہا ہے اور سرحدی انتظام سے متعلق معاہدہ طے پا گیا ہے۔
صدر شی نے ملاقات میں زور دیا کہ سرحدی تنازع کو مجموعی چین-بھارت تعلقات کی تعریف نہیں بننے دینا چاہیے، اور اگر دونوں ایک دوسرے کو حریف کے بجائے شراکت دار کے طور پر دیکھیں تو تعلقات زیادہ مستحکم ہو سکتے ہیں۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیا ہے، جسے ماہرین بیجنگ اور نئی دہلی کے قریب آنے کی ایک بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
“تعلقات میں پیش رفت”
دونوں ممالک نے براہِ راست پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 2020 سے معطل تھیں۔چین نے بھارتی زائرین کو تبت میں بدھ مت کے مذہبی مقامات پر جانے کی اجازت دے دی ہے۔سیاحتی ویزا پابندیاں ہٹا لی گئی ہیں۔
چین نے نایاب معدنیات اور کھاد سمیت اہم برآمدی پابندیاں بھی نرم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
“درپیش چیلنجز”
بھارت کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99.2 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔تبت میں چین کا مجوزہ میگا ڈیم بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔دلائی لامہ کی بھارت میں موجودگی اور پاکستان کے ساتھ چین کے قریبی تعلقات بھی حساس معاملات ہیں۔
“پاکستان کی شمولیت”
وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس میں شریک ہیں اور پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ دفترِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم علاقائی سلامتی، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی تعاون کے عزم کو اجاگر کریں گے۔ ان کی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیرِاعظم لی چیانگ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

