مودی کی شکست…… کھیل کی جیت!

میرے شہر میں ساڑھے سہ روزہ بسنت میلہ اختتام پذیر ہوا، سری لنکا اور بھارت میں کرکٹ میلہ جاری ہے، اس میں اچھی خبر یہ ہے کہ بنگلہ دیش ٹیم کی سلامتی کے حوالے سے جو تنازعہ شروع ہوا وہ بھی بخیر و خوبی طے ہو گیا ہے اور اب شائقین کی نگاہیں اتوار کو سری لنکا میں ہونے والے پاک بھارت ٹاکرے پر لگ گئی ہیں خبر ہے کہ بھارت سے سری لنکا کے لئے فضائی سفر کرنے والوں کو اب مہنگا ٹکٹ خریدنا ہوگا کہ اب کھیل تو دولت کا ہو ہی چکا لیکن شائقین کی جیبوں کے لئے بھی بھاری ہے۔ اچھے میچ کے ٹکٹ بھی مہنگے ہوتے ہیں۔

میں کرکٹ کے کھیل کا ایک شائق اور کلب کرکٹ کا سابق کھلاڑی ہوتے ہوئے عروج و زوال کو بنظر غائر دیکھتا ہوں خصوصاً آسٹریلیا، انگلینڈ اور پاک بھارت میچ توجہ کے مرکز ہوتے ہیں، اس بار جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی درخواست رد ہوئی تو پاکستان کرکٹ بورڈ اس کے حق میں بول پڑا۔ وزیراعظم سے مشاورت کے بعد پی سی بی نے 15فروری والے پاک بھارت میچ کا بائیکاٹ کر دیا اور اس سنسنی خیز صورت حال نے کرکٹ کے مستقبل پر ہی سوال اٹھا دیئے، مجھے بھی اندازہ ہوا کہ یہ حالات آئی سی سی کو ہی دو متحارب حصوں میں بانٹ دیں گے کہ اس عالمی تنظیم پر بھارتی اثر کے باعث ماضی سے ایسے فیصلے ہوتے چلے آئے ہیں جو مساویانہ نہیں کہے جا سکتے ابتدا ایلیٹ کلاس اور بی کلاس کرکٹ سے ہوئی۔ کرکٹ کی آمدنی کے بڑے حصے پر تین ممالک کے بورڈز کی اجارہ داری ہوگئی۔ اس کے علاوہ ایلیٹ کلاس کو میچ بھی زیادہ دیئے جانے لگے اس پر دوسرے ممالک کے بورڈز میں بے چینی پہلے ہی سے تھی کہ حالیہ ٹی 20ورلڈ کپ میں آئی سی سی کے یکطرفہ فیصلے نے اسے مزید ہوا دی پاکستان کی طرف سے گروپ میچ کے بائیکاٹ نے پورے ورلڈکپ ہی کو گہنا دیا تھا اور اسی کے مطابق دنیاء کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ اور وزیراعظم تک سے رابطے کرلئے اور یوں بھرپور کوشش ہوئی کہ یہ بائیکاٹ ختم ہو جائے۔ پی سی بی اور حکومت پاکستان کے اس فیصلے سے صورت حال ہی تبدیل ہو گئی اور آئی سی سی کو یقین ہو گیا کہ بات چل نکلی ہے یہ دور تک جائے گی اور یہی ہوا، بالآخر دوست ممالک کے بورڈز کی مداخلت مفید ثابت ہوئی اور آئی سی سی کو بنگلہ دیش کی دلجوئی کرنا پڑی۔ سخت اقدامات کی خبروں پر پانی پھر گیا اور فیصلہ کرنا پڑ گیا چنانچہ اب تعصب ہار گیا اور کرکٹ (کھیل) جیت گئی، چنانچہ ورلڈکپ اپنے شیڈول کے مطابق جاری ہے۔

میں ایک سابق کلب کھلاڑی کی حیثیت سے خوش اور مطمئن ہوں کہ جوش پر ہوش غالب آ گیا۔ ورنہ تعصب کی آگ نے کئی کھیلوں کو متاثر کیا ہے اور بنظر غائر دیکھنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ مودی (بی جے پی) حکومت کے اطوار کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے اور برصغیر ایک بڑے خطرے کی زد میں ہے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ملک ایٹمی صلاحیت کے مالک ہیں اور ممکنہ طور پر ایسا ہوتا تو کروڑوں انسان لقمہ اجل بن جائے جبکہ برصغیر کی زمین کے ساتھ ساتھ دیگر ملک بھی متاثر ہوتے۔ اس کا حوالہ امریکی ایٹم سے ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی کے قصے اور آثار ہی کافی ہیں، مشکل یہ ہے کہ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بہت دوستانہ تو نہیں مگر بہت بُرے تعلقات بھی نہیں تھے۔ یہ تو بھارت میں اعتدال پسند قوتوں کے بیک فٹ پر جانے اور ہندوتوا کے حامی بی جے پی کے مودی کی حکومت بننے کے بعد سے حالات بگڑنا شروع ہوئے اور اب حالت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات بھی نہیں بلکہ مودی اور ان کے حامی متعصب حضرات پاکستان میں تخریب کاری کے ذمہ دار ہیں اور اس سلسلے میں افغانستان کے طالبان کو بھی ساتھ ملایا ہوا ہے۔ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے اسے دیوالیہ کرنے کے لئے پاکستان کے اندر شورش کا سلسلہ شروع کیا گیا ہوا ہے جو اب بڑھ چکا ہے کہ مودی حکومت خود اپنے ملک کے سنجیدہ طبقے،اعتدال پسند عناصر اور حزب اختلاف کی بات سننے کو تیار نہیں۔

بھارتی حکومت نے اپنے تعصب کے حوالے سے خود اپنے ملک میں بھی عوامی رائے کو دبایا ہوا ہے۔ روایت کے مطابق مخالفین پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ کسانوں نے بڑے بڑے مظاہرے کئے، ان کی بات نہیں مانی گئی اور مشرقی پنجاب جو پورے بھارت کے لئے اناج کی ضروریات پوری کرتا ہے اس کے لئے مرکزی حکومت مخاصمہ جذبات رکھتی ہے شاید وجہ یہ کہ مشرقی پنجاب کی آبادی میں معتدبہ حصہ تقسیم کے وقت فسادات سے متاثرہ خاندانوں کا ہے اور اب سے بہت عرصہ قبل وہاں یہ سوچ پیدا ہو چکی تھی کہ جوخونریزی ہوئی وہ بدقسمتی تھی اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا،اسی وجہ سے ہم جب بھی (ماضی کی بات ہے)بھارت گئے بہت گرم جوشی پائی گئی اور یہ تجربہ ہوا کہ حالات نے سنجیدگی پیدا کر دی اور لوگ بھائی چارہ چاہتے ہیں، بات آگے بڑھ جاتی لیکن انتہا پسند عناصر کے باعث مودی کے برسراقتدار آ جانے سے یہ دوست بھی مرجھا کر رہ گئے اور جب کبھی کسی یورپی ملک میں ایسے دوستوں سے ملاقات ہو جائے تو دل کھل جاتے ہیں، اب تو کانگرسی رہنماششی تھرور نے بھی ایک مضمون میں واضح سٹینڈ لیا ہے۔

بات کھیل سے شروع کی، مودی حکومت نے کھیل کو بھی سیاست کا حصہ بنایا، ویزے بند کئے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کیا اور یہ ایشیا ٹی۔20کرکٹ کلب کا ذکر ہے جب پاکستان میزبان تھا تو بھارتی حکومت نے اپنی ٹیم کو آنے کی اجازت نہ دی اور یہ ٹورنامنٹ یو اے ای میں ہوا تھا، وہاں بھارتی کھلاڑیوں پر بھی حکومتی اثر تھا اور ایک اچھی روایت کو توڑ دیا، ہاتھ ملانے سے انکار کیا اور اب بھی یہی رویہ ہے۔

بھارتی کھلاڑیوں اور حکومت کے ایسے ہی رویے کے باعث اب آئی سی سی کو خفت اٹھانا پڑی کہ پاکستان نے بیک فٹ پر جانے کی بجائے مضبوط قدموں سے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ توقع کرنا چاہیے کہ بھاری متعصب مودی حکومت کو احساس ہوگا۔