میانمار اور تھائی لینڈ میں زلزلے سے ہلاکتیں ایک ہزار سےمتجاوز

میانمار ،بینکاک(بیورورپورٹ)میانمار اور تھائی لینڈ میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی، جب امدادی کارکنوں نے ملبے کو کھود کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق وسطی میانمار کے شہر ساگانگ کے شمال مغرب میں 7.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، جس کے چند منٹ بعد ہی 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

زلزلے سے میانمار کے مختلف علاقوں میں عمارتیں تباہ ہوئیں، پُل منہدم ہو گئے اور سڑکیں منہدم ہو گئیں، جب کہ ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی۔

برسراقتدار حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میانمار میں کم از کم 1002 افراد ہلاک اور 2 ہزار 400 کے قریب زخمی ہوئے ہیں، بنکاک میں مزید 10 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

مواصلات بری طرح متاثر ہونے کی وجہ سے الگ تھلگ فوجی زیر اقتدار ریاست سے تباہی کے حقیقی اعداد و شمار ابھی تک سامنے نہیں آئے، اور ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔

امریکی ماہرین ارضیات کے مطابق یہ ایک صدی سے زائد عرصے میں میانمار میں آنے والا سب سے بڑا زلزلہ تھا اور زلزلے کے جھٹکے اتنے طاقتور تھے کہ زلزلے کے مرکز سے سیکڑوں کلومیٹر دور بینکاک میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

منڈلے میں ’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے صدیوں پرانا بودھی پگوڈا دیکھا جو زلزلے کی وجہ سے ملبے میں تبدیل ہو گیا تھا۔پگوڈا کے باہر سڑک پر موجود ایک فوجی نے کہا کہ پہلے تو یہ ہلنے لگا.پھریہ عمارت منہدم ہو گئی، ایک راہب بھی مر گیا، کچھ لوگ زخمی ہوئے، ہم نے کچھ لوگوں کو باہر نکالا اور انہیں ہسپتال لے گئے۔

خانقاہ میں بدھا کے مرکزی مجسمے کا سر گر گیا اور اس کے قدم پلیٹ فارم پر رکھے رہ گئے۔ایسی عمارات میں بھی کوئی اندر سونے کی ہمت نہیں کرتا، کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ ایک اور زلزلہ آسکتا ہے، میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی ایسا کچھ محسوس نہیں کیا۔

منڈلے ہوائی اڈے کے محافظوں نے صحافیوں کو واپس بھیج دیا، ایک نے بتایا کہ یہ کل سے بند ہے، یہاں ایک چھت گر گئی ہےلیکن کوئی زخمی نہیں ہوا۔

ہوائی اڈے کو پہنچنے والا نقصان ایک ایسے ملک میں امدادی کوششوں کو پیچیدہ بنا دے گا، جہاں 2021 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں شروع ہونے والی 4 سالہ خانہ جنگی کی وجہ سے امدادی خدمات اور صحت کا نظام پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے۔

حکومت کے سربراہ من آنگ ہلائینگ نے بین الاقوامی امداد کیلئے غیر معمولی طور پر اپیل جاری کی جو اس آفت کی شدت کی نشاندہی کرتی ہے، پچھلی فوجی حکومتوں نے بڑی قدرتی آفات کے بعد بھی غیر ملکی امداد سے گریز کیا تھا۔

زلزلے کے بعد ملک میں زیادہ متاثرہ 6علاقوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا تھا اور دارالحکومت نیپیڈو کے ایک بڑے ہسپتال میں طبی عملے کو زخمیوں کا کھلی فضا میں علاج کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

ایک عہدیدار نے اسے ’بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا علاقہ‘ قرار دیا۔ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ’میں نے اس سے پہلے ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا، ہم صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، میں اب بہت تھکا ہوا ہوں۔‘

17 لاکھ سے زیادہ آبادی والا شہر منڈلے بری طرح متاثر ہوا ہے، اے ایف پی کی تصاویر میں درجنوں عمارتوں کو ملبے میں تبدیل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک رہائشی نے فون پر بتایا کہ ایک ہسپتال اور ہوٹل تباہ ہو گئے اور شہر میں امدادی کارکنوں کی شدید کمی ہے۔ہفتہ کی صبح دارالحکومت میں داخل ہونے کیلئے چیک پوائنٹ پر بسوں اور دیگر گاڑیوں کی بڑی قطار کھڑی تھی۔

غیر ملکی امداد کی پیشکشیں اس وقت آنا شروع ہوئیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز امریکی مدد کا وعدہ کیا۔ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ میانمار کے فوجی حکمرانوں کی اپیل کا جواب دیں گے تو انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں سے کہا کہ ’یہ خوف ناک ہے، یہ واقعی ایک برا وقت ہے، اور ہم مدد کریں گے، ہم پہلے ہی ملک کے ساتھ بات کر چکے ہیں۔‘

پاکستان نے اعلان کیا کہ ینگون اور بینکاک میں سفارت خانے ہنگامی صورتحال کی صورت میں پاکستانیوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے دستیاب ہوں گے۔بھارت سے حفظان صحت کی کٹس، کمبل، کھانے کے پارسل اور دیگر ضروری اشیا لے کر ایک ابتدائی پرواز ہفتہ کے روز تجارتی دارالحکومت ینگون پہنچی، چین کا کہنا ہے کہ اس نے امدادی کارکنوں کی 82 رکنی ٹیم میانمار بھیجی ہے۔

امدادی ایجنسیوں نے متنبہ کیا ہے کہ میانمار اتنی بڑی آفت سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے، زلزلے سے پہلے ہی خانہ جنگی کی وجہ سے تقریباً 35 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے، جن میں سے کئی کو بھوک کا خطرہ لاحق تھا۔

بنکاک میں سرحد کے اس پار امدادی کارکن رات بھر اس وقت پھنسے ہوئے افراد کی تلاش میں مصروف رہے، جب ایک زیر تعمیر 30 منزلہ عمارت منہدم ہو گئی، جو چند سیکنڈوں میں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی تھی۔

بنکاک کے گورنر چاڈ چارٹ سیٹی پنت نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ شہر بھر میں تقریباً 10 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

لیکن چتوچک ویک اینڈ مارکیٹ کے قریب اس عمارت میں 100 کے قریب مزدور ابھی تک لاپتا ہیں۔

چاڈچارٹ نے جائے وقوع پر صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم اپنے پاس موجود وسائل کے ساتھ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ ہر زندگی اہم ہے، ہماری ترجیح ان سب کو بچانے کیلئے جتنی جلدی ممکن ہو سکے کام کرنا ہے۔‘

بنکاک شہر کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ 100 سے زائد انجینئرز کو عمارتوں کے معائنے کیلئے تعینات کریں گے۔

چیڈچارٹ نے کہا کہ تقریباً 400 افراد شہر کے پارکوں میں کھلی فضا میں رات گزارنے پر مجبور ہوئے، کیونکہ ان کا گھر واپس جانا محفوظ نہیں تھا۔

بنکاک میں زلزلے کے شدید جھٹکے شاذ و نادر ہی محسوس کیے جاتے ہیں اور جمعے کے روز آنے والے زلزلے کے جھٹکوں نے شہر بھر میں خریداروں اور کارکنوں کو خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

اگرچہ بڑے پیمانے پر کوئی تباہی نہیں ہوئی، لیکن زلزلے کے جھٹکوں نے شہر کے بہت سے بلند و بالا اپارٹمنٹ بلاکس اور ہوٹلوں کی چھتوں پر سوئمنگ پولوں کی کچھ ڈرامائی تصاویر سامنے لائیں۔

بنکاک میں ہسپتالوں کو بھی خالی کرا لیا گیا، ایک خاتون نے ہسپتال سے منتقل ہونے کے بعد اپنے بچے کو باہر جنم دیا، ایک ترجمان نے بتایا کہ ایک سرجن نے ہسپتال سے باہر بھی ایک مریض کا آپریشن جاری رکھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے میانمار اور تھائی لینڈ میں آنے والے تباہ کن زلزلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ ’میانمار اور تھائی لینڈ کے عوام مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، ہماری دعائیں دونوں ممالک کے عوام کے ساتھ ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان میانمار اور تھائی لینڈ کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کھڑا ہے، اس مشکل صورتحال میں جو ممکن ہوئی، وہ مدد ہم کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں