پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے درمیان آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے میچ کے دوران ایک تماشائی کے میدان میں داخل ہونے پر سیکیورٹی کی خلاف ورزی کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔
دنیا بھر میں کرکٹ اور دیگر کھیلوں میں اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں سے ذاتی طور پر ملنے کے لیے شائقین کی جانب سے میدان میں جانے کے واقعات عام ہیں۔راولپنڈی میں میچ کے دوران ایک مداح فیلڈ میں داخل ہوا اور نیوزی لینڈ کے کھلاڑی راچن رویندر کو گلے لگانے کی کوشش کی۔
فیلڈ میں داخل ہونے والے شخص نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کی تصویر اٹھا رکھی تھی۔پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نے سیکیورٹی بریچ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے، یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ایک تماشائی میدان میں داخل ہوا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی حفاظت کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔پی سی بی کے مطابق ایک ذمہ دار تنظیم کی حیثیت سے ہم نے مقامی سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ رابطہ کیا ہے، جو اب فیلڈ کے اطراف تمام مقامات پر مزید سیکیورٹی بڑھائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث شخص کو گرفتار کرکے کورٹ میں پیش کر دیا گیا ہے، جبکہ مذکورہ شخص کے کسی بھی پاکستانی اسٹیڈیم میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے پی سی بی سیکیورٹی اداروں اور متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر سیکیورٹی پروٹوکول کا جائزہ لے رہا ہے۔
دریں اثنا، میچ کے دوران گراؤنڈ میں داخل ہونے والے تماشائی کے خلاف نیو ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔مقدمہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) نیو ٹاؤن انوار الحق کی مدعیت میں درج کیا گیا، ایف آئی آر باہتر ضلع اٹک کے رہائشی عبدالقیوم نامی شہری کے خلاف درج کیا گیا۔
متن مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر سیکیورٹی ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، ملزم یاسر عرفات انکلوژر کی جانب سے گراؤنڈ میں داخل ہوا۔نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش میچ میں کرکٹ اسٹیڈیم میں تماشائی کے داخل ہونے کے معاملے میں سول جج عمران قریشی نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ جیل بھجوانے کی درخواست مسترد کر دی۔
تفتیشی آفیسر کا کہنا تھا کہ ملزم نے سخت سیکیورٹی حصار توڑ کر قانون شکنی کی ہے، جیل بھیجا جائے، تاہم عدالت نے ملزم عبدالقیوم کو 50 ہزار روپے ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزم مچلکے داخل نہیں کراتا تو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے، ملزم کے خلاف ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات قابل ضمانت ہیں۔عدالت کی جانب سے ملزم کے خلاف مقدمہ کی سماعت 11 مارچ تک ملتوی کر دی گئی اور پولیس کو چالان پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

