نیو یارک (امریکی میڈیا، عدالتی ذرائع)وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے نیو یارک کی امریکی عدالت میں بیان دیا ہے کہ وہ ایک مہذب انسان اور اپنے ملک کے صدر ہیں اور انہیں ان کے گھر سے اغوا کرکے امریکا لایا گیا ہے۔وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد گرفتار کیے گئے صدر نکولس مادورو کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہوں نے فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا۔
جج ایلون ہیلرسٹین کی جانب سے نارکو ٹیررازم سازش سمیت دیگر الزامات پڑھے جانے پر مادورو نے مترجم کی مدد سے عدالت کو بتایا کہ وہ کسی بھی الزام کے قصوروار نہیں ہیں۔عدالت میں مادورو نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مہذب آدمی اور وینزویلا کے منتخب صدر ہیں اور انہیں زبردستی امریکا منتقل کیا گیا ہے۔صدر کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی عدالت میں عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا۔
صدر مادورو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت ان کی جانب سے ضمانت کی درخواست نہیں دی جا رہی تاہم مستقبل میں اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔امریکی جج نے نکولس مادورو کے خلاف مقدمے کی آئندہ سماعت 17 مارچ کو مقرر کر دی ہے اور انہیں اس تاریخ کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

