نئی دہلی: کرائے کے مکان میں خیالی ملک کا جعلی سفارتخانہ چلانے والا گرفتار

‘ویسٹ آرکٹیکا’، ‘سابورگا’ جیسے فرضی ممالک کا خود ساختہ سفیر، لاکھوں کا فراڈ بے نقاب

نئی دہلی / غازی آباد (نمائندہ خصوصی+اے ایف پی)بھارتی پولیس نے دارالحکومت دہلی کے قریبی شہر غازی آباد میں ایک کرائے کے مکان سے فرضی ملک ’ویسٹ آرکٹیکا‘ کا جعلی سفارتخانہ چلانے والے 47 سالہ ہرش وردھن جین کو گرفتار کرلیا۔ ملزم بیرون ملک ملازمتوں کا جھانسہ دے کر لوگوں سے لاکھوں روپے بٹور چکا ہے، اور اس پر منی لانڈرنگ و دیگر مالی جرائم کا بھی الزام ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ملزم ہرش وردھن جین ایک کرائے کے مکان کو ’ویسٹ آرکٹیکا کے سفارتخانے‘ کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ یہ مکان غازی آباد، اترپردیش میں واقع ہے، جو نئی دہلی کے مضافات میں آتا ہے۔

پولیس کے مطابق جین خود کو صرف ’ویسٹ آرکٹیکا‘ ہی نہیں بلکہ سابورگا، پولویہ، اور لوڈونیا جیسے خیالی ممالک کا بھی سفیر ظاہر کرتا رہا ہے۔ وہ جعلی سفارتی نمبر پلیٹوں والی گاڑیاں استعمال کرتا تھا اور اپنی تصاویر کو ایڈٹ کر کے بھارتی رہنماؤں کے ساتھ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا، تاکہ اپنی جھوٹی شناخت کو معتبر ظاہر کر سکے۔

پولیس تفتیش کے مطابق جین جعلی سفارتی اسناد کے ذریعے بیرون ملک ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر خطیر رقم بٹور رہا تھا۔وہ شیل کمپنیوں کے ذریعے حوالہ سسٹم کے تحت رقوم کی ترسیل میں ملوث تھا۔اس پر منی لانڈرنگ، جعلی دستاویزات اور دھوکہ دہی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔چھاپے کے 53500امریکی ڈالر نقد رقم،جعلی پاسپورٹس،بھارتی وزارتِ خارجہ کی جعلی مہروں والی دستاویزات برآمد کرلی گئیں۔

ویسٹ آرکٹیکا کا مؤقف سامنے آیاہے جس میں ان کاموقف ہے کہ ’ویسٹ آرکٹیکا‘ دراصل ایک امریکی غیر منافع بخش تنظیم ہے، جو انٹارکٹیکا کے مغربی علاقے سے متعلق تحقیق اور تحفظ کیلئےسرگرم ہے۔

تنظیم نے ایک بیان میں واضح کیا کہ”ہرش جین نے ایک فیاضانہ عطیہ دینے کے بعد خود کو بھارت میں اعزازی قونصل قرار دے دیا، لیکن اسے کبھی بھی سفیر کا سرکاری عہدہ یا اختیار نہیں دیا گیا۔”

پولیس کا کہنا ہے کہ ہرش جین کے خلاف تفتیش جاری ہے اور جلد ہی اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ بھارتی عوام کو جعلی سفارتی اداروں اور بیرون ملک ملازمتوں کے جھانسے سے ہوشیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں