نئی دہلی ( بین الاقوامی میڈیا رپورٹس) کینیڈا اور بھارت نے سفارتی کشیدگی کے بعد تعلقات کی بحالی کیلئے متعدد اہم معاہدوں کا اعلان کرتے ہوئے 10 سالہ جوہری توانائی معاہدے پر اتفاق کرلیا ہے۔کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی نئی دہلی میں ملاقات کے دوران ٹیکنالوجی، اہم معدنیات، خلائی تحقیق، دفاع، تعلیم اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بتایا کہ سول جوہری توانائی کے شعبے میں طویل المدتی یورینیم سپلائی کا تاریخی معاہدہ طے پایا ہے جبکہ دونوں ممالک اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز اور جدید جوہری ری ایکٹر ٹیکنالوجی پر بھی مشترکہ کام کریں گے۔وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا توانائی کی بڑھتی ضروریات رکھنے والے بھارت کو جوہری ایندھن کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک انرجی پارٹنرشپ شروع کی جارہی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے 2026 کے اختتام تک آزاد تجارتی معاہدہ مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جس کا مقصد دوطرفہ تجارت کو نمایاں حد تک بڑھانا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک امریکا پر تجارتی انحصار کم کرنے کیلئے نئی شراکت داریوں کی تلاش میں ہیں۔کینیڈا اور بھارت کے تعلقات 2023 میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے بعد شدید کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے سفارتکاروں کو بے دخل اور ویزا سروسز معطل کردی تھیں۔ تاہم مارک کارنی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سفارتی روابط بتدریج بحال کیے جا رہے ہیں۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے سیکیورٹی تعاون، مصنوعی ذہانت، سپر کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جبکہ آئندہ مشترکہ رینیوایبل انرجی سمٹ منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق بدلتی عالمی معاشی و جغرافیائی صورتحال کے تناظر میں کینیڈا اور بھارت کی جانب سے تعلقات کی بحالی کو عملی اور اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

