نامور خطاط شفیق الزمان کی جدوجہد اور عالمی اعتراف کی داستان

لاہور(اشرف خان لودھی سے)کراچی کے ایک سادہ سے محلے میں ایک ایسا بچہ پروان چڑھا جس کی دیواروں پر بنائی گئی نامانوس لکیریں دراصل اس کے روشن مستقبل کا نقشہ تھیں۔ ابتدا میں ہمسائے اس کی شکایت کرتے کہ وہ دیواریں خراب کرتا ہے، والد اسے سمجھاتے، وہ سر جھکا لیتا، مگر اس کے اندر کا فنکار خاموش نہ ہوتا۔ دیواریں چھن گئیں تو وہ کوئلے سے خالی جگہوں پر نقش بنانے لگا، اسکول میں بلیک بورڈ اس کا کینوس بن گیا۔ کبھی ڈانٹ ملی، کبھی حوصلہ افزائی، مگر شوق کم نہ ہوا۔

اسے باقاعدہ رہنمائی میسر نہ تھی، نہ کوئی استادِ خطاطی تھا۔ اس کے باوجود وہ مشکل سے مشکل حرف نہایت مہارت سے کاغذ پر اتار دیتا۔ آہستہ آہستہ محلّے میں بینر اور سائن بورڈ لکھنے والا باصلاحیت لڑکا پہچانا جانے لگا۔ میٹرک کے بعد تعلیم کا سلسلہ رک گیا مگر اس کے ہاتھوں کی روانی نہ رکی۔ وہ دکانوں کے نام لکھتا، بینر تیار کرتا اور اسی میں اپنے خواب تلاش کرتا رہا۔

ایک دن اسے ایک کتاب ملی جس کا نام ’’خوش خطی سیکھیں‘‘ تھا۔ اس کتاب نے اس کے فن کو سمت دی۔ اس نے حروف کی ساختیں یاد کیں، رنگوں اور قلم کے استعمال کو سمجھا اور یوں اس کا سفر نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ بعد ازاں اسے عربی خطاطی کی کتابیں ملیں اور اس نے عربی رسم الخط پر عبور حاصل کرنا شروع کیا۔

ایک موقع پر جب وہ ایک کمپنی کا سائن بورڈ لکھ رہا تھا تو ایک عرب شخصیت اس کے کام سے متاثر ہوئی۔ مترجم کے ذریعے پیغام ملا کہ وہ سعودی عرب چلے اور وہاں خطاطی کا کام کرے۔ ابتدا میں جھجک ہوئی، زبان نہ آتی تھی، مگر اس کے فن نے اس کیلئےراستہ بنا دیا۔ وہ ریاض پہنچا اور برسوں کی محنت سے عربی خطاطی میں کمال حاصل کر لیا۔

مدینہ منورہ میں حاضری کے دوران اس کے دل میں خواہش جاگی کہ کاش اسے مسجد نبویؐ کی دیواروں پر لکھنے کا موقع مل جائے۔ کچھ عرصے بعد مسجد نبویؐ کے لیے عالمی سطح پر خطاطوں کے مقابلے کا اعلان ہوا۔ ابتدا میں اسے نظرانداز کیا گیا، مگر قسمت نے ایک اور در کھولا۔ ایک عرب خطاط اس کے کام سے متاثر ہوا اور اسے مدینہ لے گیا، جہاں بڑی مشکل سے اسے مقابلے میں شامل ہونے کا موقع ملا۔

نتائج کا اعلان ہوا تو دنیا بھر کے ماہر خطاطوں کے درمیان ایک غیر عرب کا نام گونجا: شفیق الزمان، پاکستان۔ حاضرین حیران رہ گئے کہ ایک سائن بورڈ لکھنے والا پاکستانی نوجوان عرب خطاطوں پر سبقت لے گیا۔ یوں شفیق الزمان کو مسجد نبویؐ کی خطاطی کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ وہ وہاں کے خطاطوں کے استاد بن گئے۔ نصف صدی سے زائد عرصہ سعودی عرب میں گزارنے والے شفیق الزمان مسجد نبویؐ کی دیواروں کے تقریباً پچاسی فیصد کام کے خالق ہیں۔ مسجد نبویؐ کے دروازوں اور اندرونی حصوں پر ان کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی عبارتیں آج بھی عقیدت مندوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

مسجد نبویؐ کا خطاط منتخب ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں، اور شفیق الزمان کا نام آج بھی وہاں احترام اور فخر کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ سچی لگن، مستقل مزاجی اور محنت انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔