ننکانہ(نامہ نگار) خالصتان حامی رہنما اورپاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ گوپال سنگھ چاولہ کو مبینہ طور پر ایک پاکستانی پولیس اہلکار کے ساتھ بدزبانی کرتےایک ویڈیواس وقت سوشل میڈیا پروائرل ہورہاہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چاولہ کے ایک مہمان کو ننکانہ صاحب گوردوارہ میں داخلے سے روکا گیا جس پر وہ شدید برہم ہو گئے۔
یہ معاملہ خاص طور پر اس لئےبھی توجہ کا مرکز بنا ہے کیونکہ چاولہ ماضی میں پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ تاہم، پاکستانی حکام کی طرف سے گوردوارہ کے داخلی قوانین پر سختی برتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے بعض مہمانوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس پر چاولہ آپے سے باہر ہو گئے اور پولیس اہلکاروں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے۔
یہ واقعہ پاکستان میں سکھ زائرین کے داخلے اور وہاں کے انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ اس پر ابھی تک پاکستانی حکام یا گوپال سنگھ چاولہ کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ اسلئے بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ چاولہ ماضی میں پاکستان کی پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے رہے ہیں، لیکن اس بار انہیں پاکستانی حکام کی طرف سے سختی کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں انہیں پولیس کے خلاف نعرے بازی اور گالم گلوچ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں سکھ زائرین کی سیکیورٹی اور انتظامی کنٹرول پر یہ ایک نیا تنازعہ کھڑا کر سکتا ہے۔ ابھی تک پاکستانی حکام یا چاولہ کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
وائرل ویڈیو میں، چاولہ پنجابی میں مسلسل گالیاں دیتے ہوئے پولیس اہلکار کو دھمکیاں دیتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایک بریگیڈیئر نے ان کے مہمان کو اندر آنے کی اجازت دی تھی اس کے باوجود پولیس نے انہیں ایک گھنٹے تک باہر روکے رکھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اعلیٰ فوجی افسران سے رابطہ کر کے پولیس اہلکار کو سبق سکھائیں گے۔
ویڈیو میں دیگر پولیس اہلکار چاولہ کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن وہ مسلسل اشتعال میں نظر آ رہے ہیں۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گوپال سنگھ چاولہ کے مہمان کو سیکیورٹی چیکنگ کیلئے روکاگیا۔ اس پر چاولہ شدید غصے میں آ گئے اور پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔ تاہم، چاولہ کی مداخلت کے بعد ان کے مہمان کو گوردوارہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی۔
گوپال سنگھ چاولہ پاکستان میں ایک نمایاں خالصتان حامی رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ خالصتان تحریک کے ایک سرگرم حامی ہیں اور اکثر اپنی اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے سکھوں کیلئے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کی وکالت کرتے رہے ہیں۔
چاولہ کا نام اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر پاکستان میں خالصتان نواز سرگرمیوں کے حوالے سے خبروں میں آ چکا ہے۔ وہ کئی بار بھارت مخالف بیانات دے چکے ہیں اور خالصتان تحریک کے سلسلے میں پاکستان کے مبینہ تعاون کا دفاع بھی کرتے رہے ہیں۔
اس حالیہ واقعے میں انہوں نے پاکستانی پولیس اہلکار کے ساتھ بدتمیزی کی جس سےپاکستان میں خالصتان حامیوں اور حکام کے درمیان تعلقات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا اس واقعے پر پاکستانی حکام کوئی کارروائی کرتے ہیں یا نہیں۔
گوپال سنگھ چاولہ کا نام 2018 میں بھارت کے شہر امرتسر میں نیروکاری بھون پر ہونے والے دستی بم حملے سے بھی جوڑا گیا تھا۔ اس حملے میں تین افراد ہلاک اور 20 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ حملہ دو موٹر سائیکل سوار افراد نے کیا تھا، اور بھارتی حکام نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ اس میں خالصتان نواز عناصر کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ چاولہ کے پاکستان میں سرگرم ہونے کی وجہ سے ان پر بھی اس واقعے کے حوالے سے انگلیاں اٹھائی گئیں۔
اسی سال چاولہ اس وقت بھی خبروں میں آئے جب انہوں نے کرکٹر سے سیاستدان بننے والے نوجوت سنگھ سدھو کے ساتھ ایک تصویر فیس بک پر شیئر کی۔ یہ تصویر کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب کے موقع پر لی گئی تھی۔ تاہم، سدھو نے چاولہ کو پہچاننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کون ہیں۔
چاولہ خالصتان تحریک کے ایک سرگرم حامی کے طور پر جانے جاتے ہیں اور پاکستان میں قیام پذیر ہیں، جہاں وہ خالصتان نواز بیانیے کو فروغ دینے کیلئے سرگرم رہتے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں اکثر بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی کا باعث بنتی رہی ہیں۔

