نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست پر سماعت ملتوی

اسلام آباد( کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی درخواست پر سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ سماعت جسٹس علی باقر نجفی کے اضافی نوٹ کے اجرا تک مؤخر کی گئی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دورانِ سماعت مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ قانون میں تبدیلی کے بعد نظرثانی میں وکیل تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ فیصلہ انہوں نے تحریر کیا تھا اور جسٹس علی باقر نجفی کا اضافی نوٹ ابھی آنا باقی ہے، جو مدعا علیہ کیلئےفائدہ مند ہو سکتا ہے۔ عدالت نے فیصلہ کیا کہ اضافی نوٹ کے اجرا تک سماعت ملتوی کر دی جائے۔

بعد ازاں عدالت نے نظرثانی درخواست پر سماعت تین ہفتوں کیلئےمؤخر کر دی۔

یاد رہے کہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7/4 میں قتل کیا گیا تھا۔ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعدازاں ٹرائل کورٹ نے اسے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا تھا اور سپریم کورٹ نے رواں سال مئی میں اپیل مسترد کر کے سزا برقرار رکھی تھی۔

عدالت عظمیٰ اب جسٹس علی باقر نجفی کے اضافی نوٹ موصول ہونے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت کرے گی تاکہ نظرثانی درخواست پر حتمی فیصلہ سنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں