نہ شٹر ڈاؤن ہوا، نہ پہیہ جام، لاہور یئے بسنت مناتے اور مہمان نوازی کرتے رہے!

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے حوالے سے حکومتی اتحاد اور پی ٹی آئی کے اپنے اپنے دعوے ہیں تاہم حقیقت حال کے مطابق لاہور میں ایسے کوئی اثرات نہیں تھے یہاں بسنت منائی جا رہی تھی اور مقامی افرادکے علاوہ دوسرے شہروں سے آنے والے بھی چھتوں پر نظر آئے۔ سڑکوں پر ٹریفک نسبتاً کم اور پر سکون تھی کہ سرکاری طور پر مہیا کردہ بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ پر سفر ہو رہا تھا، اتوار ہونے کی وجہ سے مرکزی مارکیٹوں میں ہفتہ وار چھٹی کے باعث ”شٹرڈاؤن“ تھا تاہم علاقائی دکانیں کھلی تھیں کہ بسنت والوں کی طرف سے خریداری بھی متوقع تھی۔ خصوصاً کھانے پینے والی دکانیں، ریسٹورنٹ اور ڈھابے کمائی کررہے تھے۔ شہر (اندرون شہربھرپور) کی چھتوں پر بھی لنچ اور ڈنر کا اہتمام تھا اور کئی معروف ڈشوں پر مشتمل کھابے کھائے گئے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے کسی مظاہرے کی بھی اطلاع نہ ملی۔ الیکٹرونک میڈیا نے بسنت کو بھرپور کوریج دی لیکن ہڑتال کا ذکر نہیں تھا۔ سوشل میڈیا پر ذکر ہوا، میری نظر سے لاہور میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام والی کوئی ویڈیو نظر نہ آئی، جو ویڈیواپ لوڈ کی گئی وہ بھی اتوار کی چھٹی والی مارکیٹ کی تھی۔ اس حوالے سے بانی کی ہمشیرہ حلیمہ خان کا کہنا ہے جو کال دی گئی اس میں بسنت نہ منانے کی اپیل تو نہیں کی گئی تھی۔ بسنت تو ہم نے بھی منائی اور میرے بیٹے سمیت میں نے بھی پتنگ اڑائی تھی۔ بہرحال پی ٹی آئی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ہڑتال کا اثر ہوا۔ لوگوں نے تاثر لیا ہے۔ اب اگلا مرحلہ شروع ہوگا جس کی تیاریاں جاری ہیں۔

لاہوریوں کو جشن بسنت کے حوالے اور نام سے تفریح کا موقع دیا گیا اور انہوں نے اس سے بھرپور لطف اٹھایا، اب اس حوالے سے سود و زیاں کا حساب لگایا جا رہا ہے۔حکومت اور کائٹ فلائنگ اینڈ مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ سہ روزہ بسنت سے تقریباً دس ارب روپے کی سرکولیشن ہوئی اور معاشی فائدہ ہوا جبکہ دوسرے شہروں سے ہزاروں افراد لاہور آئے ان میں غیر ملکی مہمان بھی تھے۔ پچیس سال کے بعد منائی جانے والی یہ بسنت منافع خوری کا ذریعہ بنی کہ کھلاڑی میدان میں نہیں تھے اور اناڑی حضرات پرجوش تھے جن کو اس کھیل سے صرف اس حد تک واقفیت تھی کہ گڈی اور ڈور ہوتی ہے چنانچہ تاجر (رجسٹرڈ) حضرات نے دل کھول کر قیمت لگائی۔ تین سو سے آٹھ سو روپے تک گڈے اور پانچ ہزار سے پندرہ بیس ہزار روپے تک ڈور کا پِنا فروخت ہوا۔ اس سلسلے میں یہ امر بھی قارئین کے لئے تعجب کا باعث ہوگا کہ پچیس سال سے قبل جب پتنگ بازی ہوتی تو گڈی، گڈوں کے علاوہ پتنگیں بھی تیار کی جاری تھیں اور ماہر کھلاڑی ان کے پیچ لڑاتے۔ ڈور(جب تک قاتل نہ تھی) خود تیار کرائی جاتی، بازار میں فروخت ہونے والی ڈور کا حساب ”گوٹ“ ہوتا۔ ایک سے تین ”گوٹ“ تک والی ڈور عموماً بچوں اور لڑکوں کے لئے تھی اور والدین دکانوں سے خرید کر دیتے تھے جبکہ کھلاڑیوں کے پاس کم از کم چھ گوٹ اور درجن گوٹ کے پنے ہوتے تھے، اس بار ایسا کوئی حساب نہیں تھا، تاجر حضرات نے دو دو گوٹ والے پنے بھی ہزاروں روپے میں بیچے اور یوں ایک ایک گوٹ کم از کم بھی 5سے 7ہزار روپے کی بکی جو بھی ہوا جشن ہو گیا اور حادثات بھی ہوئے ان میں کم از کم چار سے پانچ اموات اور درجن بھر لوگ زخمی بھی ہوئے۔ کامیاب تقریب پر صوبائی حکومت مطمئن ہے اور وزیراعلیٰ نے مزید شہروں میں بھی بسنت منانے کا عندیہ دیا ہے۔

لاہور میں ٹی 20ورلڈکپ میں تنازعہ کا فیصلہ ہوا تو ملتان سلطان کی نیلامی بھی ہوئی جو قریباً تین ارب روپے تک کی ہے تاہم اب اس کا نام ملتان نہیں، راولپنڈی ہوگا، اسی دوران آئی سی سی کے وائس چیئرمین بھی لاہور آئے۔ ان کا مقصد پاکستان ٹیم کو بھارت کے ساتھ کھیلنے کے لئے آمادہ کرنا تھا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر بھی پہلے آ چکے اور انہوں نے پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی سے مذاکرات کئے تھے جبکہ اس دوران دنیاء کرکٹ کی طرف سے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطے کئے گئے۔ سری لنکا کے صدر نے تو وزیراعظم محمد نوازشریف سے بات کی۔ یو اے ای کے کرکٹ بورڈ نے بھی خصوصی اپیل کی۔ اس حوالے سے آئی سی سی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان بھی طویل مذاکرات ہوئے۔ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو رعائتیں دیں اور پھر بنگلہ دیش بورڈ کے صدر نے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکریہ ادا کرکے کھیلنے کے لئے درخواست کر دی چنانچہ اس اطمینان کے بعد وزیراعظم کی اجازت سے بھارت کے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ ہو گیا یہ مقابلہ 15فروری کو سری لنکا میں ہو گا، ایک بار پھر بھارت کی مبینہ ”کرکٹ دہشت گردی ہار گئی اور کرکٹ جیت گئی“۔