“نیتن یاہوایک مسئلہ ہیں”:ڈینش وزیراعظم،غزہ میں شہادتیں 62 ہزار سے متجاوز

کوپن ہیگن/غزہ ( ایجنسیاں)ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اب بذاتِ خود ایک “مسئلہ” بن چکے ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ یورپی یونین کی موجودہ صدارت کے دوران وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے سیاسی اقدامات اور پابندیوں پر غور کریں گی۔

روزنامہ یولاندز پوسٹن کو دیے گئے انٹرویو میں ڈینش وزیراعظم نے کہا”اسرائیلی حکومت حد سے زیادہ آگے بڑھ رہی ہے۔””ہم کسی امکان کو خارج نہیں کر رہے، جیسے روس کے معاملے میں پابندیاں مؤثر ثابت ہوئیں۔”

ممکنہ اقدامات میں تجارتی، تحقیقی اور آبادکاروں یا وزیروں پر انفرادی پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔تاہم، ڈنمارک ان ممالک میں شامل نہیں ہے جنہوں نے فلسطین کو باضابطہ طور پر بطور ریاست تسلیم کیا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی بمباری اور محاصرے نے انسانی المیہ مزید گہرا کر دیا ہے۔شہری دفاع کے مطابق ہفتے کو مزید 39 فلسطینی شہید ہوئے۔اکتوبر 2023 سے اب تک 61,827 فلسطینی شہید،155,275 زخمی،غزہ شہر کے زیتون محلے میں صورتحال نازک ہے.

شدید بمباری کے بعد تقریباً 50 ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں۔کھانے پینے اور پانی تک رسائی ختم ہو گئی ہے۔شہری دفاع کے ترجمان نے کہا: “اسرائیل زیتون میں نسل کشی کر رہا ہے۔”

اس ماہ کے آغاز میں نیتن یاہو کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دی، جو پہلے ہی 22 ماہ کی لگاتار بمباری سے کھنڈر بن چکا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں