نیشنل گیمز سے چند روز قبل پاکستان سپورٹس بورڈ کو ہوش آگیا

متوازی اور پابندی کی شکار فیڈریشنز کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار رنگ میں بھنگ ڈالنے کے مترادف ہوگا

پاکستان سپورٹس بورڈ نے 35 ویں نیشنل گیمز کے آغاز سے محض چند روز قبل غیر قانونی اور پابندی کی شکار فیڈریشنز کی شمولیت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ سندھ کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے۔ خط سیکریٹری سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز کے نام لکھا گیا ہے جس میں کھلاڑیوں اور فیڈریشنز کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

پی ایس بی کے مطابق نیشنل گیمز میں ایسی باکسنگ فیڈریشن کو شامل کیا گیا ہے جس پر پابندی عائد ہے اور جسے عالمی باڈی بھی تسلیم نہیں کرتی جبکہ ممنوعہ ادویات کے استعمال کے کیسز کے باعث ویٹ لفٹنگ فیڈریشن عالمی ڈوپنگ تنظیم کی سفارش پر پہلے ہی پابندی کا شکار ہے۔ خط میں مزید کہا گیا کہ بیس بال فیڈریشن کے سیکریٹری فخر شاہ پر غیر معینہ مدت تک پابندی کے باوجود ان کی گیمز میں شمولیت سوالیہ نشان ہے۔

سپورٹس بورڈ نے ایتھلیٹکس فیڈریشن کے انتخابات کو بھی غیر قانونی قرار دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی فیڈریشن نمائندے نامزد کرنے کی اہل نہیں ہوسکتی۔ خط میں سندھ حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ امور کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور 35 ویں نیشنل گیمز میں صرف قانونی اور تسلیم شدہ فیڈریشنز کو ہی شامل کیا جائے۔ ایسے وقت میں جب ایونٹس کے شیڈول تک کو حتمی شکل دیدی گئی ہے پی ایس بی کا یہ اقدام محض رنگ میں بھنگ ڈالنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ اگر پی ایس بی یہ اقدام چند روز پہلے کرلیتا تو اس کی افادیت مزید بڑھ سکتی تھی۔