لاہور (اسپورٹس ڈیسک)نیشنل گیمز کے ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں ایک ہی گھر کے تین افراد کی شرکت نمایاں رہی، جہاں میاں، بیوی اور بیٹی تینوں مختلف ڈیپارٹمنٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے ایکشن میں دکھائی دیے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ مدیحہ زبیر، جو نویں جماعت کی طالبہ ہیں، نے ویمنز 86 کلوگرام کیٹیگری میں پاکستان ریلویز کی نمائندگی کرتے ہوئے سلور میڈل حاصل کیا۔ مدیحہ نے مجموعی طور پر 129 کلوگرام وزن اٹھایا۔
اسی کیٹیگری میں مدیحہ کا مقابلہ اپنی والدہ زاہرہ زبیر سے تھا، جو پاک آرمی کی جانب سے میدان میں اتری تھیں۔ زاہرہ 108 کلوگرام وزن اٹھا کر میڈل حاصل نہ کر سکیں، تاہم اپنی بیٹی کی کامیابی پر انتہائی خوش دکھائی دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مقابلے کے ساتھ ممتا کا احساس برقرار رکھنا ایک منفرد تجربہ تھا‘‘۔
مدیحہ زبیر کا کہنا ہے کہ ویٹ لفٹنگ ان کے خون میں شامل ہے۔ ’’بچپن سے ہی ویٹ لفٹنگ کا ماحول ملا، دادا، والد اور والدہ سب اسپورٹس سے وابستہ ہیں۔‘‘ مدیحہ نے خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے دادا اولمپیئن محمد منظور کی طرح پاکستان کی نمائندگی اولمپکس میں کرنا چاہتی ہیں۔
مدیحہ کے والد زبیر منظور بھی انٹرنیشنل ویٹ لفٹر ہیں اور ان دنوں نیشنل گیمز میں پاکستان پولیس کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ منگل کو اپنے مقابلے میں ایکشن میں دکھائی دیں گے۔ زبیر نے کہا کہ انہیں اپنی بیٹی اور اہلیہ دونوں کی کارکردگی پر فخر ہے، ’’میری خواہش ہے کہ گھر کا ہر فرد پاکستان کلرز حاصل کرے‘‘۔
زبیر منظور کے خاندان کی ویٹ لفٹنگ میں طویل تاریخ ہے۔ ان کے والد محمد منظور نے 1976ء کے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ ان کے بھائی زوہیب اور بہن صائمہ بھی ویٹ لفٹر ہیں اور نیشنل گیمز میں مختلف کیٹیگریز میں حصہ لے رہے ہیں۔

