نیو یارک (امریکی میڈیا،سی این این)وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد گرفتار کر کے نیویارک کی عدالت میں پیش کر دیا گیا، جہاں انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لایا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق عدالت سے انہیں عمر قید کی سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وینزویلا پر حملہ کرکے وہاں سے لائے گئے صدر نکولس مادورو کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر مادورو نے بھورے رنگ کا لباس اور چمکدار نارنجی جوتے پہن رکھے تھے، لینڈنگ کے بعد انہیں ایک وین کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
سی این این کے مطابق نکولس مادورو کو لے جانے والا موٹرکیڈ بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر سے روانہ ہوتے دیکھا گیا، جہاں وہ گزشتہ دو روز سے منشیات اور اسلحہ سے متعلق الزامات کے تحت حراست میں ہیں۔
وینزویلا میں صدر مادورو کی گرفتاری کے لیے امریکی فوجی کارروائی کے خلاف امریکا، وینزویلا اور دنیا کے مختلف ممالک میں مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے امریکا کے خلاف نعرے لگائے اور مادورو کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وینزویلا کی صورتحال پر غور کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وینزویلا کے بعد میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا پر حملوں کی دھمکی دی اور کہا کہ وینزویلا کو اب امریکا چلائے گا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر امریکا کا حق جتاتے ہوئے کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی ضرورت ہے، جس پر برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے امریکی مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام اور ڈنمارک کے حکمرانوں کا حق ہے۔
گرین لینڈ کے وزیراعظم نے بھی ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اب بہت ہو چکا، وہ مزید دباؤ برداشت نہیں کریں گے اور عالمی قوانین کے تحت مذاکرات کیلئےتیار ہیں۔
اسی دوران وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکا کی جانب سے ایک اور حملے کی دھمکی کے بعد مؤقف میں نرمی لاتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہے حالانکہ اس سے قبل انہوں نے امریکی حملے کو ظلم قرار دیا تھا۔
کیوبا نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا پر امریکی حملے میں اس کے 32 شہری ہلاک ہوئے، جن میں کیوبا کی فوج اور وزارتِ داخلہ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔کولمبیا کے صدر نے بھی ٹرمپ کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی دھمکیوں کے جواب میں ہتھیار اٹھانے کیلئےتیار ہے۔

