نیو یارک(نیٹ نیوز) دریائے ہڈسن میں سیاحتی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں پائلٹ کے علاوہ سیمنز کمپنی کے اعلیٰ ہسپانوی عہدیدار، ان کی اہلیہ اور 3 بچے ہلاک ہو گئے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق نیو یارک کے میئر ایرک ایڈمز کا کہنا ہے کہ سیاحوں کا ایک ہیلی کاپٹر دریائے ہڈسن میں گرکر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام 6 افراد ہلاک ہو گئے جن میں 3 بچے اور پائلٹ بھی شامل ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے قانون نافذ کرنے والے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں جرمنی کی ٹیکنالوجی کمپنی سیمنز کے ایگزیکٹو آگسٹن ایسکوبار بھی شامل ہیں۔
حادثے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بڑی چیز دریا میں گر رہی ہے جس کے چند سیکنڈ بعد ہیلی کاپٹر کا بلیڈ پانی میں گرتے ہوئے نظر آتا ہے۔اس کے بعد ایمرجنسی اور پولیس کی کشتیوں کو دریا کے ایک حصے کے گرد چکر لگاتے ہوئے دیکھا گیا جہاں ہیلی کاپٹر ڈوب گیا تھا جبکہ اس کا لینڈنگ گیئر پانی کی سطح سے اوپر تھا۔
نیویارک کی پولیس کمشنر جیسیکا ٹش نے بتایا کہ نیویارک ہیلی کاپٹر ٹورز کے زیر انتظام بیل 206 ہیلی کاپٹر مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے ایک ہیلی پیڈ سے روانہ ہوا اور دریائے ہڈسن کے اوپر شمال کی جانب پرواز کی۔
جیسیکا ٹش نے مزید کہا کہ جب یہ جارج واشنگٹن برج پر پہنچا تو یہ جنوب کی طرف مڑ گیا اور چند منٹ بعد ہی نیو جرسی کے علاقے ہوبوکن کے قریب لوئر مین ہیٹن کے قریب پانی میں گر کر ڈوب گیا۔
نیو جرسی کے علاقے جرسی سٹی کی رہائشی 29 سالہ ڈینی ہربیاک نے بتایا کہ انہوں نے گھر میں کام کرتے ہوئے اپنی کھڑکی سے حادثے کا مشاہدہ کیا۔
انہوں نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ’میں نے اپنی کھڑکی سے باہر دیکھا کہ ہیلی کاپٹر ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے اور میں نے دیکھا کہ نیچے دریا میں کئی ٹکڑے گر رہے ہیں اور میں سوچ رہی تھی کہ کیا ہوا ہے، ایسا لگتا ہے کہ شاید میں نے ہیلی کاپٹر کے پروں کو کسی چیز میں گھستے ہوئے سنا تھا‘۔
غوطہ خوروں نے متاثرین کو پانی سے نکالنے میں مدد کی، 4 افراد کو موقع پر ہی مردہ قرار دے دیا گیا جبکہ دیگر 2 کو علاقے کے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔
وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے کہا کہ ٹور ہیلی کاپٹر نیو یارک میں قائم اسپیشل فلائٹ رولز ایریا میں تھا، جس کا مطلب ہے کہ حادثے کے وقت ایئر ٹریفک کنٹرول سروسز فراہم نہیں کی جا رہی تھیں۔
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن ( ایف اے اے) اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) واقعے کی تحقیقات کرینگے جبکہ این ٹی ایس بی تحقیقات کی قیادت کریگا۔

