نیویارک میں شدید سردی: میئر ظہران ممدانی نے “کوڈ بلیو”اقدامات بڑھا دیے، 10 افراد ہلاک

نیویارک(ایجنسیاں) نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کے پہلے 100 دنوں میں شدید سردی نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ گزشتہ ہفتے برف باری کے بعد جمعرات تک کم از کم 10 افراد کو باہر سے مردہ حالت میں پایا گیا، جس کے بعد میئر نے “کوڈ بلیو” ہنگامی اقدامات کو بڑھانے کا اعلان کیا۔

میئر ممدانی نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ تمام ہلاکتیں ہائپوتھرمی کی وجہ سے ہوئی ہیں یا نہیں، تاہم ہر نیویارکر کو ہمسایوں کیلئے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسے پچھلے آٹھ سالوں کی شدیدترین سردی قرار دیا۔

“ہنگامی اقدامات”
شہر نے تقریباً 500 بے گھر افراد کو عارضی رہائش میں منتقل کیا، جن میں شیلٹرز، محفوظ مقامات اور اسٹابیلائزڈ بیڈ شامل ہیں۔10 نئے وارمنگ شیلٹرز کھولے گئے اور 7 اضافی NYC Health + Hospitals مراکز سب پانچ بوروز میں شامل کیے گئے۔

10 نئے وارمنگ بسز کلیدی مقامات پر متعارف کرائے گئے تاکہ موجودہ موبائل یونٹس کی مدد کی جا سکے۔
ہسپتالوں کو ہدایت دی گئی کہ ایسے مریض جن کے پاس جانے کی جگہ نہ ہو، ان کی رات بھر ڈسچارج محدود کی جائے۔ذہنی صحت کی ٹیمیں اسٹریٹ اور سب وے آؤٹ ریچ پر مرکوز کر دی گئی ہیں۔

میئر ممدانی نے کہا، “یہ انتہا درجے کی سردی ذاتی ناکامی نہیں بلکہ عوامی ذمہ داری ہے۔ ہمارے پاس وسائل ہیں، اسلئے ہمیں عمل کرنے کی ذمہ داری ہے تاکہ نیویارکر محفوظ رہیں۔”

“ماہرین اور ہوم لیس ایڈووکیسی گروپس کی تشویش”
لیگل ایڈ سوسائٹی اور کولیشن فار دی ہوم لیس نے کہا کہ ہنگامی اقدامات ضروری ہیں، لیکن شہر کی پالیسیوں نے بے گھر نیویارکروں اور آؤٹ ریچ کارکنوں کے درمیان اعتماد کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل رہائش فراہم کیے بغیر اعتماد دوبارہ قائم نہیں کیا جا سکتا اور محدود عملے سے ہر بے گھر شخص کی نگرانی ممکن نہیں۔

واضح رہے کہ میئر ممدانی نے اس سردی کے دوران شہر میں ‘کوڈ بلیو’ کا دائرہ وسیع کر کے رہائش، وارمنگ مراکز، بسز اور اضافی آؤٹ ریچ کے اقدامات کو عملی جامہ پہنایا ہے تاکہ ممکنہ ہلاکتوں کو کم کیا جا سکے۔