واشنگٹن: مارکو روبیو کا بیان، “نکولس مادورو وینزویلا کے قانونی صدر نہیں تھے”

واشنگٹن( امریکی وزارت خارجہ)امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو قانونی صدر نہیں تھے اور ان کے سر کی قیمت 50 ملین ڈالر تھی، جو بچائی گئی۔مارکو روبیو کے مطابق امریکا میں مادورو پر 2020ء میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ انہوں نے جرائم پیشہ عناصر کو امریکا بھیجا اور امریکی شہریوں کو قیدی بنایا۔

امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت، بائیڈن حکومت اور ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت نے مادورو کو صدر تسلیم نہیں کیا، جبکہ یورپی یونین اور دیگر کئی ممالک نے بھی مادورو کو صدر کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔مارکو روبیو نے مزید کہا کہ مادورو کے سر کی قیمت 50 ملین ڈالر مقرر تھی، اور یہ رقم محفوظ کی گئی۔

مادورو کے پاس اس صورتحال سے بچنے کے متعدد مواقع تھے اور اسے کئی پرکشش پیشکشیں بھی کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ مادورو نے ایران کو اپنے ملک میں مدعو کیا اور امریکا کا تیل ضبط کیا، جبکہ صدر ٹرمپ کے اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا۔