واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بذریعہ ڈاک ووٹنگ (Mail-in Ballots) اور ووٹنگ مشینوں کے استعمال کو ختم کریں گے۔ یہ اقدام ریاستوں کی طرف سے قانونی چیلنجز کو جنم دے سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا”میں بذریعہ ڈاک ووٹنگ کو ختم کرنے کی تحریک کی قیادت کرنے جا رہا ہوں اور بہت مہنگی اور متنازع ووٹنگ مشینوں کو بھی ختم کیا جائے گا۔”
ٹرمپ طویل عرصے سے میل اِن بیلٹس کی سیکیورٹی پر شکوک ظاہر کرتے آئے ہیں اور انتخابی اصلاحات کے لیے ری پبلکنز پر زور دیتے رہے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹرمپ خود 2020 اور 2024 کے انتخابات میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈال چکے ہیں، اور اپنے حامیوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دی تھی۔
بعض ری پبلکن ریاستوں (جیسے فلوریڈا) نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کو ایک محفوظ اور آسان آپشن کے طور پر اپنایا تاکہ ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھے۔2020 میں کووِڈ-19 وبا کے دوران میل اِن ووٹنگ نے ریکارڈ سطح چھو لی تھی۔2024 کے انتخابات میں دو تہائی ووٹرز نے ذاتی طور پر ووٹ ڈالا جبکہ تقریباً ایک تہائی ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے۔
سوئیڈن کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس کے مطابق دنیا کے تقریباً تین درجن ممالک (مثلاً کینیڈا، جرمنی، جنوبی کوریا) کسی نہ کسی شکل میں میل اِن ووٹنگ کی اجازت دیتے ہیں، اگرچہ بیشتر نے اس پر کچھ شرائط اور پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔
ٹرمپ نے یہ اعلان روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کے بعد کیا اور دعویٰ کیا کہ پوٹن نے بھی ڈاک کے ذریعے ووٹنگ ختم کرنے پر ان سے اتفاق کیا۔ٹرمپ نے ریاستوں کو خبردار کیا کہ چونکہ وہ وفاقی ووٹوں کی گنتی میں محض “ایجنٹ” ہیں، لہٰذا انہیں صدر کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

