وانا: کیڈٹ کالج کے تمام طلبہ و اساتذہ بحفاظت ریسکیو، دہشت گردوں کیخلاف آپریشن جاری

افغان خوارج کالج کی مخصوص عمارت میں محصور، آپریشن حتمی مرحلے میں داخل

(وانا – نمائندہ جنگ)جنوبی وزیرستان میں وانا کیڈٹ کالج کے تمام 525 طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا ہے، جبکہ کالج میں چھپے تین افغان خوارج کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ مسلسل فون پر افغانستان سے ہدایات حاصل کر رہے ہیں۔ پی ٹی وی نیوز کے مطابق تینوں دہشت گرد کالج کی ایک مخصوص عمارت تک محدود کر دیے گئے ہیں، جسے فورسز نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ جس عمارت میں دہشت گرد چھپے ہیں وہ طلبہ کی رہائشی عمارتوں سے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ علاقے میں کرفیو نافذ کر کے سرچ آپریشن کو حتمی مرحلے میں داخل کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ روز افغان خوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی، جس کے نتیجے میں داخلی دروازہ تباہ اور اطراف کی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔فوری کارروائی میں پاک فوج کے جوانوں نے دو حملہ آوروں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کے وقت کالج میں تقریباً 650 افراد موجود تھے جنہیں مکمل طور پر بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔آئی جی فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا ساؤتھ خود کالج میں جاری آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ “اب آپریشن کو جامع انداز میں مکمل کیا جائے گا اور کسی بھی دہشت گرد کو فرار ہونے نہیں دیا جائے گا۔”

حکام کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کے دشمن بیرونی عناصر کی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف ہے۔ترجمان نے کہا کہ”معصوم قبائلی بچوں پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ پاکستان کی سلامتی سے۔ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک فورسز کی کارروائی جاری رہے گی۔”

تمام طلبہ و اساتذہ بحفاظت ریسکیو،تین افغان خوارج مخصوص عمارت میں محصور،آپریشن حتمی مرحلے میں،آئی جی ایف سی خود نگرانی کر رہے ہیں.حملے کے وقت 650 افراد کالج میں موجود تھے.

اپنا تبصرہ لکھیں