وزیراعظم شہباز شریف کا فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس میں خطاب

ریاض / اسلام آباد (عرب نیوز، الریاض ڈیلی، اے ایف پی)وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے سعودی عرب میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس کے دوران اعلیٰ سطحی گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی ترقی، عالمی امن اور خوشحالی کیلئے مشترکہ عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی، علم اور تجربے کو بروئے کار لائے بغیر دنیا پائیدار ترقی کے راستے پر نہیں چل سکتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ قدرتی آفات سے پاکستان کو مجموعی طور پر 130 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، تاہم ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے قرضوں کی فراہمی مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ مسلسل قرضے ملکی معیشت کو کمزور کرتے ہیں۔عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور متاثرہ ممالک کی عملی مدد کیلئےآگے بڑھے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں بڑے چیلنجز پر قابو پایا ہے اور اب اصلاحات کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایف بی آر کو مکمل طور پر ڈیجیٹائزڈ کر دیا گیا ہے، جس سے شفافیت بڑھی ہے اور کرپشن میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، مگر گزشتہ 78 سالوں میں ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اب ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ایک چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ حکومت نوجوانوں کو ہنر اور تربیت فراہم کر کے معاشرے کے مفید شہری بنانے کیلئے پرعزم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، حالانکہ پاکستان کا ماحولیاتی بگاڑ میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ انصاف پر مبنی ترقی اور حقیقی انسانی فلاح کیلئےاجتماعی کوششیں تیز کریں تاکہ دنیا کو ایک محفوظ، پُرامن اور خوشحال مستقبل دیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں