میڈرڈ(نامہ نگار) اسپین کے وزیراعظم اور سوشلسٹ ورکرز پارٹی (PSOE) کے سیکرٹری جنرل پیدرو سانچیز نے جمعرات کے روز پارٹی کے مرکزی دفتر سے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی عوام سے معافی مانگ لی ہے۔ ان کا یہ اقدام گواردیا سول کی انسداد بدعنوانی یونٹ (UCO) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں سوشلسٹ پارٹی کے تنظیمی سیکرٹری سانتوس سیر دان پر سرکاری ٹھیکوں میں غیر قانونی کمیشن وصول کرنے اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم سانچیز نے اپنے خطاب میں کہا”میں آج پوری ہسپانوی قوم سے معذرت چاہتا ہوں۔ میں گزشتہ دنوں تک سانتوس سیر دان کی ایمانداری اور کردار پر مکمل یقین رکھتا تھا، لیکن آج UCO کی رپورٹ نے مجھے گہرے دکھ اور مایوسی سے دوچار کیا ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ انہیں اس رپورٹ کی تفصیلات کا علم آج ہی ہوا، اور جیسے ہی وہ ان معلومات سے آگاہ ہوئے، پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے فوری مشاورت کے بعد سانتوس سیر دان کا استعفیٰ قبول کر لیا گیا۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ سوشلسٹ پارٹی بدعنوانی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی پر قائم ہے۔ “ہم قانون، شفافیت اور ادارہ جاتی اعتماد پر یقین رکھتے ہیں، اور یہی اصول ہماری سیاسی جدوجہد کی بنیاد ہیں۔”
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے جاری سیاسی حملوں کے باوجود وہ ان الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں گے جن کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہوں گے۔
سانتوس سیر دان وزیراعظم سانچیز کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے اور پارٹی کے اندرونی فیصلوں میں ان کا اہم کردار تھا۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد ہسپانوی سیاسی منظرنامے میں غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ دوسرا بڑا اسکینڈل ہے جس کا سامنا پارٹی کو حالیہ برسوں میں کرنا پڑا ہے، جب اس سے قبل خوسے لویس آبالوس کو بھی کرپشن الزامات پر پارٹی سے نکالا جا چکا ہے۔
اس بحران کے تناظر میں سیاسی حلقے قبل از وقت انتخابات کی قیاس آرائیاں کر رہے تھے، تاہم وزیراعظم سانچیز نے ان امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا”انتخابات 2027 میں ہی ہوں گے۔ یہ وقت ملک میں استحکام کو فروغ دینے کا ہے، نہ کہ سیاسی مفاد حاصل کرنے کا۔”
انہوں نے اپنے بیان کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ ان کی حکومت اقتدار کی خواہش میں نہیں بلکہ اسپین کے بہتر سیاسی و سماجی مستقبل کی تشکیل کیلئےکوشاں ہے۔

