وزیراعظم محمد شہبازشریف نے اوورسیز پاکستانی کنونشن کے بعد ایک اور بڑا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی، ان کومنجمد رکھنے کے بعد پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ بچت کی مجموعی رقم بلوچستان کی اہم سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کی جائے گی۔ بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے رقوم مختص کرنے پر کس کافر کو اعتراض ہو سکتا ہے تاہم اس فیصلے سے مترشح ہوتا ہے کہ وزیراعظم نے وفاق کی طرف سے صوبوں کی ترقی میں بھی حصہ ڈالنا شروع کر دیا ہے اور یوں اب یہ بھی خیال آ رہا ہے کہ عنقریب وزیراعظم یہ اعلان فرمائیں گے کہ کراچی اہم شہر ہے جس کی ترقی ضروری ہے لہٰذا ریلوے اور بسوں کے کرایوں میں پانچ سے دس فیصد اضافہ کیا جاتا ہے اور یہ رقم محکمے اور مالکان کو نہیں ملے گی اور جو اضافی کرائے جمع ہوں گے۔ وہ کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ یوں بتدریج صوبائی ترقیاتی کاموں میں عوام کا حصہ ڈالا جائے گا کہ محترم وزیراعظم ابتداء ہی سے عوام اور اشرافیہ سے قربانی کا تقاضا کرتے چلے آ رہے ہیں، اشرافیہ والے تو چینی مہنگی کرکے، برآمد سے ڈالر کما کر قربانی دے رہے ہیں، البتہ عوام سے درجہ بدرجہ مختلف حوالوں سے قربانی لی جا رہی ہے اور یہ ان کی منشاء سے نہیں۔ تصور کرکے لی جا رہی ہے کہ یہ بے چارے معصوم سٹپٹا کررہ جائیں گے۔
مجھے تو اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ ہمارے نائب وزیراعظم اور خارجہ امور کے انچارج وزیرمحترم اسحاق ڈار کی روحانی قوت اپنا عمل کر رہی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں منجمد کرنے کا سلسلہ انہی کے ادوار انچارج وزارت خزانہ کی حیثیت سے شروع ہوا تھا، وہ بڑے اطمینان سے یہ کام کرتے تھے اور عوام کو ریلیف دینے میں ہاتھ اندر کرلیتے تھے، اب یہی کام خود وزیراعظم اور ان کے ساتھ ہی وزیرخزانہ نے شروع کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے عوام ہی کو پہنچنے والے فائدہ کو پہلے بجلی سستی کرنے کے حوالے سے روکا اور اب بلوچستان کی ترقی کا نعرہ لگا دیا ہے۔ معاشی طور پر ملک کو استحکام کا دعویٰ کرنے والے اپنے رہنماؤں سے میرا یہ سوال ہے کیا اس طرح معیشت بہت بہتر ہوگی کہ وزیرخزانہ نے مجوزہ بجٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس بار تنخواہ دار طبقے کو سہولت دی جائے گی اور ان کی طرف سے یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ 50ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والوں کو انکم ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ان کی طرف سے یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں خوراک سے منسلک اشیاء پر ٹیکس بڑھا دیا جائے گا، یوں پہلے سے مہنگی بیکری، اشیاء خوردنی اور عام استعمال کی اشیاء قریباً 15فیصد مہنگی ہو جائیں گی اور مہنگائی کم ہونے اور کرنے کے سب دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ ایسے فیصلوں کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی، حیران ہوں کہ وہ کون سے ماہرین معیشت دفن ہیں جو ایسی تجاویز لاتے اور ان پر عمل کرتے اور کرواتے ہیں۔ وزیراعظم نے گزشتہ پندھڑواڑے میں قیمتیں منجمد کرکے بجلی کے نرخوں میں ریلیف دی جو بہت کم تھی یوں بھی قیمتوں میں اضافہ اس اشرافیہ کی مہربانی سے تھا جس نے نجی پاور پلانٹ لگائے اور وفاقی حکومتوں ہی نے یہ معاہدے کئے تھے، اب ایک طرف تو یہ خوشخبری دی گئی کہ نجی پاور ہاؤس والوں سے نجات حاصل کی جا رہی ہے اور ان کے ساتھ گفت و شنید سے معاہدوں میں ترمیم یا ان کو ختم کیا جا رہا ہے جس کا فائدہ عوام کو ملے گا لیکن داد دیں ”ماہرین“ حضرات کو جنہوں نے آئی ایم ایف کا مطالبہ پورا کرنے کے لئے نجی پاور ہاؤسز کے مالکان کا بقایا ادا کرنے کا خوبصورت طریقہ نکالا اور بجلی کے بلوں میں تقریباً تین روپے فی یونٹ بقایا جات کی ادائیگی کے مقرر کر دیئے اور خوشخبری دی کہ بقایا جات صفر ہو گئے اور عالمی مالیاتی فنڈ کا مطالبہ پورا کر دیا گیا۔
میں ذرا سادہ زبان میں بات کررہا ہوں کہ مشکل الفاظ سے عوام کو الجھانے کا شوق ہمارے ماہرین پورا کرتے ہیں، اب ذرا پٹرولیم کے نرخ منجمدکرنے کی بات بھی کرلیں کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں سے مارکیٹ اکانومی براہ راست متاثر ہوتی ہے اگرچہ نرخ کم ہونے سے براہ راست عوام کو مطلوبہ فائدہ نہیں ہوتا تاہم نرخوں میں اضافہ رک جانے کے ساتھ کچھ فرق ضرور پڑتا ہے اور اگر انتظامیہ چست ہو تو یہ فائدہ زیادہ ہو سکتا ہے اور چار سو ہوگاکہ پٹرولیم کے اخراجات کا تعلق براہ راست مارکیٹ اکانومی سے ہے، یوں عوام کی جیبوں پر بوجھ بننے کے لئے خوبصورت الفاظ اور طریقوں کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔
محترم! وزیراعظم آپ نے ملک کو اقتصادی اور معاشی بحران سے نکالنے اور معیشت کو بحال کرنے کے جو نیک فیصلے کئے ہیں، ان سے عوام بہت ”خوش اور خوشحال“ ہیں اور آپ کو دعا بھی دیتے ہیں، لیکن یہ پوچھنا تو لازم ہے کہ ترقی کا یہ نیا اور دلچسپ طریقہ کس نابغہ کی ایجاد ہے کہ عوام کے سرمونڈھ کر انہی کا نام لو اور ترقی کا ڈھنڈورا پیٹو، حکومت وقت اور اشرافیہ کو شکوہ ہے کہ سوشل میڈیا نے اودھم مچا رکھا ہے اور اسے صحت مند بنانے کے لئے حکومت نے پیکا بھی نافذ کر دیا ہے اگرچہ اب تک اس سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، اب حکومت کو چاہیے کہ xکی طرح سوشل میڈیابھی بند کر دے کہ عوام کے اندر تو روٹی، روزگار کے باعث بولنے کی ہمت نہیں، صرف سوشل میڈیا ہی ان کو تسلی دیتا ہے،یہ نہ سمجھا جائے کہ میں سوشل میڈیا کا حامی ہوں کہ اس میڈیا کے ذریعے جھوٹ کی افزائش اور شریف لوگوں کی پگڑیاں اچھلتی ہیں، لیکن جب اسی میڈیا کے ذریعے عوامی مسائل پر بات ہوتی ہے تو لوگ ادھر راغب بھی ہوتے ہیں یوں یہ میڈیا پھل پھول رہا ہے، محترم! وزیراعظم بلاشبہ عوام معاشی استحکام اور دہشت گردی کے حوالے سے حکومت اور آرمی چیف کے لئے دعاگو بھی ہیں تاہم یہ دعائیں قبولیت کا درجہ اس وقت حاصل کریں گی جب عوام کے دل سے نکلیں گی اور اس کے لئے لازم ہے کہ ان کو سہولت ملے اور حکومت اشرافیہ سے قربانی کی اپیل ہی نہ کرے بلکہ اسی طرح وصول کرے جیسے عوام سے کی جاتی ہے، یقین کرنا چاہیے کہ آئندہ بجٹ میں اشرافیہ سے قربانی کی بجائے عوام کی طرح ٹیکس ہی وصول کرلیا جائے اور ان کو ایسی سہولت نہ دی جائے کہ وہ پہلے چینی برآمد کرکے ڈالر کمائیں اور پھر چینی مہنگی کرکے عوام کی جیبوں سے رقوم نکلوائیں اور کاشتکاروں کو ان کا حق نہ دیں۔
میں پنجاب حکومت کی اس لحاظ سے تعریف پر مجبور ہوں کہ ابھی تک سارے ترقیاتی کام صوبائی بجٹ ہی میں سے کئے جا رہی ہے اور اس کی وجہ سے عوام کے مختلف طبقات کو ریلیف بھی ملتی ہے، لیکن اس ریلیف کی تعریف پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہ ملنے اور عوامی سہولتوں میں کمی کے باعث دل کھل کر نہیں ہوتی کہ وفاق اور پنجاب کا تعلق ذاتی بھی ہے۔

