اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ملک میں آئینی تشریح کے لیے قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت نے قواعد نہ ہونے کے باوجود اعلیٰ تنخواہ والے متعدد انتظامی عہدوں کی منظوری دے دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے آرٹیکل 208 کے تحت 8 سینئر عہدے تخلیق کیے ہیں جن میں ایک بی ایس–22 اور سات بی ایس–21 کے عہدے شامل ہیں، جن سب کو ایس پی پی ایس پے اسکیل میں رکھا گیا ہے، جس کی تنخواہ 15 سے 20 لاکھ روپے تک ہے۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے ابھی تک آرٹیکل 208 کے تحت اپنے قواعد وضع نہیں کیے، اس لیے قانوناً اسے سپریم کورٹ کے موجودہ قواعد پر عمل کرنا چاہیے، جن میں ایس پی پی ایس اسکیل کی ایسی تقرریوں کی کوئی مثال نہیں۔ اس صورتحال نے ایف سی سی کے ملازمین کی ملازمت کے ضوابط کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق رجسٹرار، سیکریٹری ٹو چیف جسٹس، ایڈیشنل رجسٹرار، ڈپٹی رجسٹرار، اسسٹنٹ رجسٹرار، سینئر پرائیویٹ سیکریٹریز، ریسرچ اینڈ ریفرنس افسران اور گریڈ 16 سے 2 تک مختلف عہدے تخلیق کیے گئے ہیں، جن کے اخراجات مالی سال 2025-26 کے ایف سی سی بجٹ سے پورے ہوں گے۔
وفاقی حکام کے مطابق ایس پی پی ایس اسکیل تکنیکی ماہرین کے لیے ہوتا ہے اور اسے انتظامی افسران کی تقرری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پالیسی کے تحت ایسے عہدے بنانے سے پہلے موجودہ اسٹاف میں مہارت کی عدم دستیابی ثابت کرنا، تفصیلی ٹی او آرز بنانا، اور اشتہار کے ذریعے مسابقتی بھرتی ضروری ہوتی ہے، تاہم ایف سی سی نوٹیفکیشن میں ان تقاضوں کا ذکر موجود نہیں۔
ایف سی سی نے ان عہدوں کو مستقل قرار دیا ہے، جب کہ ایس پی پی ایس صرف دو سالہ کنٹریکٹ اسٹیٹس کے لیے مخصوص ہے۔ عدالت کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق معاملے پر نظرثانی زیر غور ہے۔
رجسٹرار ایف سی سی محمد حفیظ اللہ خان کا مؤقف ہے کہ ایس پی پی ایس پیکیجز ’قانون کے مطابق‘ ہیں اور آرٹیکل 208 عدالت کو اپنے انتظامی ڈھانچے کے قیام کا اختیار دیتا ہے۔

