پاکستان کے بائیں بازو اور لبرل تجزیہ کار مسلسل اس بات کو مسترد کرتے رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کو امریکی محکمہ خارجہ، خاص طور پر وکٹوریا نولینڈ یا اُس کے معاون ڈونلڈ لُو کی ہدایت پر ہٹایا گیا تھا۔ یہ لوگ فوج کے اس موقف کو درست تسلیم کرتے ہیں کہ قوم اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد منظور کر کے عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔
امریکی حکومت کی مداخلت کا یہ انکار اس وقت حیران کن معلوم ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی محکمہ خارجہ کی سینیئر اہلکار وکٹوریہ نولینڈ کے کردار کو یوکرین میں سیاسی تبدیلی لانے میں شواہد اور لیکس کے ذریعے ثابت کیا جا چکا ہے۔ تاہم، جب یہی سوال پاکستان کے بارے میں اٹھایا جاتا ہے، تو یہی لبرل/لیفٹسٹ تجزیہ کار امریکہ کی ممکنہ مداخلت پر غور کرنے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔
یہ تضاد ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: پاکستان کے لبرلز امریکہ کی یوکرین میں مداخلت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپنے ہی ملک میں ایسی کسی مداخلت کے امکان پر غور کیوں نہیں کرتے؟
وکٹوریا نولینڈ اور یوکرین کا معاملہ
یہ کوئی سازشی نظریہ نہیں بلکہ اب یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ وکٹوریا نولینڈ نے یوکرین میں سیاسی تبدیلی میں براہ راست کردار ادا کیا۔ یوکرین میں 2014 کے بحران کے دوران نولینڈ اور امریکی سفیر جیفری پائیٹ کے درمیان ہونے والی ایک لیک شدہ کال میں واضح طور پر یوکرین کی نئی حکومت کے لیے امریکہ کے پسندیدہ افراد پر گفتگو کی گئی تھی۔
اس کال میں نولینڈ کی مشہور “F*** the EU” والی بات نے بھی یہ واضح کر دیا کہ امریکہ اپنے مقاصد کے لیے اپنے یورپی اتحادیوں کو بھی نظر انداز کر سکتا ہے۔ جب یوکرین میں امریکی مداخلت کو واضح شواہد کے ساتھ ثابت کیا جا چکا ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں 2022 میں ہونے والی سیاسی تبدیلی میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا؟
سائفر اور عمران خان کے خلاف امریکی ناپسندیدگی
عمران خان کی حکومت پہلے ہی واشنگٹن کے لیے ایک پریشانی بن چکی تھی۔ جو بائیڈن کی حکومت نے عمران کی حکومت کو کبھی پذیرائی نہیں دی تھی۔ روس-یوکرین جنگ پر غیر جانبدار مؤقف، افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پاکستان میں امریکی اڈے دینے سے انکار، اور مغربی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید کی وجہ سے وہ امریکی سٹریٹجک مفادات کے لیے ناقابل قبول ہوتا جا رہا تھا۔
اسی دوران بدنام زمانہ “سائفر” سامنے آیا—جس کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ ایک خفیہ سفارتی پیغام ہے جس میں امریکہ کی طرف سے ان کی حکومت کے خلاف براہ راست دھمکی دی گئی۔ اس سائفر کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر افسر ڈونلڈ لو نے خبردار کیا تھا کہ اگر عمران خان کو نہ ہٹایا گیا تو پاکستان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اگرچہ اس سائفر کی صداقت پر بحث جاری ہے، لیکن یہ حقیقت کہ یہ دھمکی امریکی مداخلت کے عمومی طریقہ کار سے مطابقت رکھتی ہے، اسے یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستانی لبرلز اس حقیقت کو کیوں نظرانداز کرتے ہیں؟
پاکستانی لبرل اور بائیں بازو کے دانشور عمران خان کی برطرفی میں امریکی کردار کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرنے پر کیوں مصر ہیں؟ اس کے پیچھے تین بنیادی وجوہات ہو سکتی ہیں:
۱- عمران خان سے شدید نفرت: بہت سے لبرل دانشور عمران خان کو ایک عوامی مقبولیت رکھنے والا پاپولسٹ، جذباتی سیاستدان کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ ایک سنجیدہ لیڈر کے طور پر۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ انہیں بیرونی سازش کے تحت ہٹایا گیا تھا، تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ کسی نہ کسی حد تک متاثرہ فریق تھے، جو کہ ان کے ناقدین کے لیے تسلیم کرنا مشکل ہے۔
۲- امریکی اور مغربی بیانیے پر غیر مشروط یقین: دیگر ممالک جیسے مشرقی یورپ، لاطینی امریکہ یا مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت پر پاکستانی لبرلز کو اعتراض ہوتا ہے، لیکن جب بات پاکستان کی آتی ہے تو وہ امریکہ کی خارجہ پالیسی پر غیر متزلزل اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر امریکہ نے سلواڈور آلندے (چلی)، ایوو مورالز (بولیویا) یا کرنل قضافی (لیبیا) کی حکومتیں گرائیں، تو پاکستان کی حکومت کو گرانے کا امکان کیوں نہیں ہو سکتا؟
۳- فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے سے ہم آہنگی: چونکہ پاکستانی فوج نے عمران خان کے خلاف مرکزی کردار ادا کیا، اس لیے پاکستان کے لبرلز، جو عام طور پر دائیں بازو کے سیاستدانوں کی مخالفت کرتے ہیں، اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ اگر وہ امریکی مداخلت کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ خود بخود فوج کے کردار کو بھی بے نقاب کر دے گا، جسے پاکستانی لبریز/لیفٹسٹس نظرانداز کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
سچ سامنے لانے کا وقت آ گیا ہے
جس طرح لیک شدہ فون کال نے یوکرین میں وکٹوریہ نولینڈ کے کردار کو بے نقاب کیا تھا، اسی طرح اگر پاکستان میں 2022 کے واقعات کے متعلق کوئی انکشاف سامنے آتا ہے تو امریکی مداخلت کے امکانات کو تقویت مل سکتی ہے۔ لیکن کیا صرف اس لیے کہ پاکستان میں امریکی مداخلت کی کوئی ٹیپ لیک نہیں ہوئی، تو اس سے یہ مراد لی جائے کہ کوئی مداخلت نہیں ہوئی؟
اب جبکہ بائیڈن انتظامیہ کا یوکرین کے معاملے میں جوش و خروش کم ہو چکا ہے، اور اہم سیاسی انجینئرز جیسے وکٹوریا نولینڈ امریکی محکمہ خارجہ سے باہر ہو چکی ہیں جبکہ ڈونلڈ لو بھی تقریباً بے یار و مددگار ہو چکے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں ٹرمپ انتظامیہ پاکستان میں 2022 میں ہونے والی حکومت کی تبدیلی سے متعلق تمام دستاویزات کو منظرِ عام پر لے آئیں گے؟
اور اگر یہ سرکاری سطح پر افشا کرنا مشکل ہو، تو شاید کوئی نیا وکی لیکس یا ایڈورڈ اسنوڈن سامنے آ کر بتا دے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں عمران خان کی حکومت کو کس طرح ختم کروایا تھا۔
جو بائیڈن کے دور میں پاکستان کی حکومت کی تبدیلی کے پس پردہ حقائق سامنے لانا اس لیے ضروری ہے کہ اس کے اثرات آج بھی پاکستانی عوام کے بنیادی حقوق، میڈیا کی آزادی اور جمہوری اقدار کو بری طرح نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسی عمل کے نتیجے میں ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کو ملک کے سب سے طاقتور فوجی ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا، جس کی مدت پانچ سال تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں فوجی عدالتیں قائم کر دی گئی ہیں، اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
اگر امریکہ واقعی جمہوری احتساب اور شفافیت پر یقین رکھتا ہے، تو اسے یہ معلومات چھپانے کے بجائے دنیا کو بتانی چاہیے کہ کیا پاکستان کی سیاسی تقدیر جی ایچ کیو راولپنڈی میں لکھی گئی تھی، اسلام آباد کی پارلیمان نے تشکیل دی تھی، یا واشنگٹن سے ڈکٹیٹ کرائی گئی تھی؟

