ویمنز کرکٹ ورلڈکپ میں تاریخ ساز فیصلہ: صرف خواتین پر مشتمل امپائرز اور ریفریز پینل کا اعلان

دبئی (نمائندہ خصوصی) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے جمعرات کو اعلان کیا کہ آئندہ ویمنز ون ڈے ورلڈکپ پہلی بار مکمل طور پر خواتین پر مشتمل امپائرز اور میچ ریفریز کے پینل کے تحت کھیلا جائے گا، جو خواتین کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

آئی سی سی کے مطابق حالیہ تین بڑے ایونٹس (2022 کامن ویلتھ گیمز برمنگھم اور دو آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈکپ) مکمل خواتین آفیشلز کے ساتھ کھیلے گئے تھے،ویمنز ون ڈے ورلڈکپ میں یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔

ویمنز ون ڈے ورلڈکپ کا 13واں ایڈیشن 30 ستمبر سے بھارت اور سری لنکا میں کھیلا جائے گا اور اس میں 14 خواتین امپائرز فرائض انجام دیں گی جن میں کلئیر پولو سیک، جیکلین ولیمز، سو ریڈفرن، لارین ایجنباگ اور کم کاٹن شامل ہیں۔ پولو سیک، ولیمز اور ریڈفرن اپنے تیسرے ورلڈکپ میں جبکہ ایجنباگ اور کاٹن دوسرے ورلڈکپ میں ذمہ داریاں نبھائیں گی۔

اسی طرح میچ ریفریز کیلئےبھی چار خواتین کا تقرر کیا گیا ہے جن میں ٹروڈی اینڈرسن، شاندری فرٹز، جی ایس لکشمی اور مشیل پریرا شامل ہیں۔چیئرمین آئی سی سی جے شاہ نے اس فیصلے کو خواتین کرکٹ کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم دنیا بھر میں خواتین کو امپائرنگ اور ریفری شعبے میں آنے کی ترغیب دے گا اور صنفی مساوات کے فروغ کا عملی اظہار ہے۔

آئی سی سی نے حال ہی میں اس ٹورنامنٹ کے لیے ایک کروڑ 38 لاکھ 80 ہزار ڈالر کی ریکارڈ انعامی رقم کا اعلان بھی کیا ہے۔ پاکستان ہائبرڈ ماڈل کے تحت اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔یہ پیش رفت خواتین کرکٹ کی ترقی میں ایک نئے دور کی شروعات تصور کی جا رہی ہے، جو نہ صرف کھیل میں توازن پیدا کرے گی بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بامعنی رول ماڈلز بھی فراہم کرے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں